خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 78

خطبات محمود ۷۸ سال ۱۹۳۵ء رہے ہیں ، وہ ایک حد تک طبیعت کی افتاد کی وجہ سے ہے اس لئے بجائے کوئی اور قدم اٹھانے کے میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ دوستوں کے سامنے جب یہ لوگ اس قسم کی باتیں کریں تو فوراً اغوڈ اور لا حول پڑھکر ان کی مجلس سے اٹھ جائیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسی طرح چند روز ان کے سامنے اَعُوذُ اور لَا حَول پڑھا جائے تو کچھ تعجب نہیں کہ ان کی اصلاح ہو جائے۔دوستوں کی غفلت ہوتی۔ہے کہ وہ سمجھتے ہیں یہ ہمارا بھائی ہے اس لئے جو کچھ یہ کہتا ہے اسے ہمیں سننا چاہئے۔وہ یہ نہیں خیال رکھتے کہ خلیفہ اور سلسلہ کا رشتہ ان سے زیادہ گہرا ہے۔کیا کوئی بھائی کی خاطر باپ اور ماں کو قربان کیا کرتا ہے۔پس انہیں چاہئے کہ وہ نظام سلسلہ کے خلاف باتیں سنکر فوراً چوکس ہو جائیں اور کہنے والے سے کہہ دیں کہ مجھے پتہ نہیں تھا آپ کو شیطان نے اپنا آلہ کار بنایا ہوا ہے میں آپکی مجلس میں بیٹھنا نہیں چاہتا۔مجھے ان لوگوں کو ڈھیل دیتے دیتے ایک لمبا عرصہ ہو گیا ہے اور اب بھی میں انہیں کچھ نہیں کہتا مگر میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سوچیں ان کا اپنا طریق عمل کیا ہے انکی اپنی تو یہ حالت ہے کہ وہ اس بات پر لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں کہ ہمیں فلاں عہدہ کیوں نہیں دیا گیا۔فلاں کیوں دیا گیا۔فلاں کے ماتحت ہم رہنا نہیں چاہتے۔کبھی تنخواہ پر جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔یہ تمام باتیں جتلاتی ہیں کہ ان کے دماغ کی گل بگڑی ہوئی ہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اگر بُرا بھلا کہا جائے تو انہیں غصہ نہیں آتا لیکن اپنی کوئی بات ہو تو جھگڑے بغیر رہ نہیں سکتے۔میں متکبر نہیں اور نہ مجھے ظاہری علوم کے حاصل ہونے کا دعویٰ ہے مگر جو علم خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے اس کے ماتحت میں کہتا ہوں کہ یہ تینوں اپنی نجات کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کر رہے ہیں اور اگر یہ تو یہ نہیں کریں گے تو کسی دن کوئی ایسی ٹھو کر انہیں لگے گی جس کے نتیجہ میں ان کا سارا اخلاص جاتا رہے گا۔آخر وجہ کیا ہے کہ دنیا جہان کے تمام اعتراض انہی پر کھولے جاتے ہیں اور جو بات ان کے ذہن میں آتی ہے وہ کسی اور کے ذہن میں نہیں آتی لیکن کسی شعبہ میں کسی پائیدار خدمت کا موقع انہیں نہیں ملتا۔انہیں سوچنا چاہئے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ سلسلہ کے تمام کام تو خدا تعالیٰ مجھ سے لے لیکن میری غلطیوں سے ہمیشہ انہیں آگاہ کرے۔اللہ تعالیٰ اس قسم کی تقسیمیں نہیں کیا کرتا۔