خطبات محمود (جلد 16) — Page 77
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء اعتراض کرنا نہیں۔میں یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ یہ تینوں شخص جنہوں نے اعتراض کئے مخلص ہیں ، منافق ہرگز نہیں۔مگر ان تینوں کے دماغ کی گل بگڑی ہوئی ہے۔میں انہیں منافق قرار نہیں دیتا بلکہ مخلص سمجھتا ہوں مگر میں یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ ان تینوں کی دماغی گلیں بگڑی ہوئی ہیں۔انہی میں سے ایک کی مجلس میں ہمیشہ نظام سلسلہ کے خلاف باتیں ہوتی رہتی ہیں اور ہمیشہ میرے پاس رپورٹیں پہنچتی رہتی ہیں مگر اس خیال سے میں رکا رہتا ہوں کہ یہ مخلص شخص ہے صرف دماغی بناوٹ کی وجہ سے معذور ہے۔تیسرا شخص بھی اسی قسم میں سے ہے اس کے حالات میں سے ایک موٹی مثال میں پیش کرتا ہوں جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ واقعی اس کی دماغی حالت میں نقص ہے۔جب درد صاحب کے ولایت جانے پر یہاں کچھ شورش ہوئی اور لڑکوں سے غلطیاں ہوئیں اور میں نے لڑکوں کو ڈانٹا تو اس پر اس نے درد صاحب کو ایک چھٹی لکھی کہ میں آپ کو مبارک دیتا ہوں کہ آپ کی براءت ہوئی مگر آپ خلیفہ کی خوشنودی کا خیال نہ رکھا کریں بلکہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اس نادان سے کوئی پوچھے کہ کیا خلیفہ کی خوشنودی کا خیال رکھنا خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے خلاف ہو ا کرتا ہے۔اگر خلیفہ کی خوشنودی ضروری نہیں تو خدا تعالیٰ نے خلافت کو قائم ہی کس لئے کیا ہے۔اگر مجھے اس شخص کے اخلاص کا خیال نہ ہوتا تو میں اس تحریر کو بدترین نفاق قرار دیتا کیونکہ منافق کی بھی یہی چال ہوتی ہے کہ وہ بدی کی تحریک نیکی کے پردہ میں کیا کرتا ہے۔میں ان لوگوں کے اسی قسم کے بیسیوں واقعات جانتا ہوں اور بتا سکتا ہوں کہ وہ خود مجرم ہیں اور ان کی مثال انہی لوگوں کی سی ہے جن کے متعلق قرآن مجید میں آتا ہے کہ وہ جب رسول کریم ﷺ کی مجلس سے اُٹھ کر چلے جاتے تو ایک دوسرے سے کہتے مَاذَا قَالَ انا۔اس نے ابھی کیا بات کہی ہے۔یہ لوگ نہ میری باتوں کو غور سے سنتے ہیں نہ سمجھنا چاہتے ہیں اور ہمیشہ جوش یہ ہوتا ہے کہ خلیفہ کی بات پر کچھ اعتراض کریں چونکہ اس قسم کے لوگوں کی باتوں سے سادہ لوح لوگوں کو دھوکا لگتا ہے اس لئے دوستوں کو چاہئے کہ جب کبھی ایسے شخصر سے گفتگو کا انہیں موقع ملے وہ فور الاحول پڑھیں اور سمجھیں کہ یہ شیطان کا حربہ ہیں۔ممکن ہے ان میں سے بعض کے دل میں بھی اخلاص نہ ہو لیکن چونکہ مجھے یہی یقین ہے کہ یہ لوگ خلافت کے مخالف نہیں نہ میرے ذاتی مخالف ہیں بلکہ سلسلہ سے اخلاص رکھتے ہیں اور جوغلطی انہوں نے کی ہے یا پہلے کرتے