خطبات محمود (جلد 16) — Page 824
خطبات محمود ۸۲۴ سال ۱۹۳۵ء ان کا کوئی کام کرے تو وہ اُس کی مزدوری دینے کے لئے تیار رہیں گے وہ ایک بڑھئی کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور اس بڑھئی کی مزدوری کے پیسوں کو اُس کا جائز حق سمجھیں گے۔انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ لوہار کے بیوی بچے ہیں اور وہ بھی کپڑے پہنتے اور روٹی کھاتے ہیں اس لئے اُس کی مزدوری ضرور دینی چاہئے۔انہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ بڑھئی کے بیوی بچے ہیں اور وہ بھی کپڑے پہنتے اور روٹی کھاتے ہیں اس لئے اُس کی مزدوری کو نہیں روکنا چاہئے۔اسی طرح وہ ایک ڈاکٹر ، ایک انجینئر ، ایک وکیل ایک معمار ، ایک درزی ، ایک نائی اور دنیا کے دوسرے پیشہ وروں کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جائز اور مفید کام کرتے ہیں اور ان کی خدمت کرنی چاہئے خواہ ماہوار تنخواہ کی صورت میں یا روزانہ ادا کر نیکی صورت میں۔مگر جب دین کا معاملہ آتا ہے تو وہ مبلغین کے متعلق یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ وہ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے۔نہ ان کی بیویاں ہیں نہ بچے۔گویا وہ انسان نہیں بلکہ ملائکہ کی قسم کے لوگ ہیں۔یا کم سے کم وہ ان کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کا حق نہیں کہ کھائیں اور پیئیں۔اور اگر وہ کھاتے ہیں تو دوسروں کا حق چھین کے جیسے گتے کو بعض دفعہ انسان اپنی روٹی ڈال دیتا ہے اُن کو بھی کچھ دے دیا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جب کبھی بھی علم دین کی کوئی بات سنانے والا ان کے پاس جائے چاہے وہ اُس کی باتوں کی قدر کریں مگر وہ اُسے ذلیل ترین وجود سمجھتے ہیں حالانکہ جس کام کو اُنہوں نے اختیار کیا ہوا ہوتا ہے اگر اُسے دیانتداری سے کریں تو وہ دنیا کا معزز ترین کام ہے۔عام طور پر ہمارے ملک میں جن لوگوں کو شریف اور معزز سمجھا جاتا ہے اُن سے اگر کوئی کہے کہ اپنی لڑکی ایسے شخص کو دے دو تو وہ حیران ہو کر کہیں گے کہ یہ تو ملا ہے۔حالانکہ ملا کیا چیز ہے مثلاً ہمارے ملک کا مذہبی راہنما ہے مگر کچھ ان کے اخلاق بگڑ جانے کی وجہ ہے اور کچھ اُس گزارہ کی رقم کی وجہ سے جو وہ لیتے ہیں غلط فہمی میں مبتلاء ہو کر لوگ انہیں ذلیل ترین وجود سمجھنے لگ گئے۔مگر یہ احساس اُن کو ڈاکٹر کے متعلق نہیں ہوتا اور نہ اُن کو یہ احساس ایک وکیل کے متعلق ہوتا ہے وہ بڑے ادب اور احترام سے ایک ڈاکٹر یا وکیل کو فیس دیں گے ، اس کی خاطر تواضع کریں گے ، نام بھی عزت سے لیں گے اور بات کرتے ہوئے کہیں گے کہ بڑے آدمی جو ہوئے ہم ان کے مقابلہ میں کیا ہیں ، پس ایک ڈاکٹر کی ڈاکٹری اور ایک وکیل کی وکالت کی ان کی نگاہوں میں وقعت ہے لیکن دین اور اس کی اشاعت کرنے والے کی ان کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں اور چونکہ ایک خرابی اور خرابیاں پیدا کر دیا