خطبات محمود (جلد 16) — Page 825
خطبات محمود ۸۲۵ سال ۱۹۳۵ء کرتی ہے اس لئے اس تحقیر کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اس لعنت میں گرفتار ہو گئے کہ ان میں سے جتنی قو میں اپنے آپ کو شریف سمجھتی تھیں انہوں نے اس دینی کام کی طرف سے اپنی توجہ ہٹالی کچھ شرفاء جنہوں نے یہ کام اختیار کیا ذلیل ہو گئے اور کچھ ذلیل اس لئے اس کام کی طرف متوجہ ہو گئے کہ جب ہم آگے ہی ذلیل ہیں تو ایک ذلّت یہ بھی سہی۔آخر جس کا سر پھر جائے گا اُس کا باقی دھڑ اُسے کیا کام دے سکتا ہے۔جب وہ لوگ جو دین کا سر تھے ذلیل ہو گئے تو مسلمان بھی بحیثیت قوم گر گئے اور سب دنیا کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے۔یہ عادت جو مسلمانوں میں ایک عرصہ سے قائم ہے ابھی تک گئی نہیں۔اور اب بھی وہ اس کام میں بُرائی محسوس کرتے ہیں اگر چہ پہلے جتنی نہیں لیکن ابھی تک یہ بات ان میں قائم ہے کہ وہ کسی شخص کے دینی خدمت کرنے کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ اب یہ شخص تمام دنیوی عزتوں سے محروم کر دیا گیا۔حالانکہ اسلام نے یہ بتایا ہے کہ جو دین کی خدمت کرتا ہے حقیقت میں وہی معزز ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِندَ اللهِ أَتْقَاكُمْ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے کام میں لگ جائے اس کے متقی ہونے میں کوئی شبہ ہی نہیں ہو سکتا بشرطیکہ وہ دوسرے اعمال میں بھی تقویٰ اور طہارت ملحوظ رکھے۔اس خیال کے ماتحت ہمارے علماء خواہ کتنی بڑی قربانی کر کے لوگوں کے پاس جائیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بھی دوسرے ملاؤں جیسے ملا ہیں چھوٹے نہ سہی بڑے ملا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں پر جو باتوں پر غور کرنے کی بجائے کہنے والے کی شخصیت دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، ہمارے علماء کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کیا ہے یہ تنخواہ لیتے اور کام کرتے ہیں جس طرح اور لوگ روپوں پر اپنا دین بیچ دیتے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی اپنادین بیچ رکھا ہے چونکہ وہ خود روپوں پیسوں پر اپنا دین فروخت کرنے کے عادی ہیں اس لئے وہ ہمارے مبلغوں کے متعلق بھی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ انہیں چونکہ مرکز کی طرف سے گزارہ ملتا ہے ، اس لئے انہوں نے اپنا دین بیچ دیا ہے۔مگر یورپین لوگوں میں یہ بات نہیں ، اُن میں پادری کی عزت قوم کے دوسرے معززین سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہوتی ہے۔ہاؤس آف لارڈز (HOUSE OF LORDS) جو نوابوں کا مقام ہے اس میں بھی بڑے بڑے پادری شامل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ کوئی موقع یا مجلس ہو اُس میں پادری کو شامل کیا جاتا اور اُس کا اعزاز کیا جاتا ہے اِس کی وجہ سے باوجود یورپ میں دہریت پھیلنے کے مذہب کی عزت اور اس کا احترام وہاں پایا جاتا ہے۔وہ دہر یہ ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود کے منکر