خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 787 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 787

خطبات محمود ۷۸۷ سال ۱۹۳۵ء میں نہایت بر اسلوک کیا گیا انہیں مارا گیا ، انہیں پیٹا گیا ، انہیں قتل کیا گیا مگر وہ صبر اور تحمل سے برابر کام صلى الله صلا کرتے چلے گئے ۔ رسول کریم ﷺ ایک دفعہ خانہ کعبہ میں عبادت عبادت کے کر رہے تھے کہ کفار نے نے آپکے آ گلے میں پٹکہ ڈال کر اس زور سے دبایا کہ آپ کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور بعضوں نے سمجھا کہ شاید آپ اس تکلیف سے وفات پا جائیں گے ۔ اُس وقت تک پردہ کا حکم نہیں اُترا تھا جب رسول کریم کو اِس رنگ میں اذیت دی کی دی گئی تو آپ کے خاندان کا خاندان کی بعض مستورات باہر آ گئیں اور اُنہوں نے کفار کو کہا تمہیں شرم نہیں آتی ۔ تم ایک ایسے شخص کو محض خدائے واحد کی عبادت کرنے کے جرم میں تکلیف دیتے ہو۔ کے ہم میں سے رسول کریم ﷺ کے برابر کیا آپ کی خاک پا کے برابر بھی کون ہے پھر اگر آپ نے ان سب تو ان سب تکلیفوں کو کو برداشت کیا نہ کیا تو ہم کون ہیں کہ ان تکلیفوں کو برداشت نہ کر سکیں ۔ اس برداشت سے تمہارے اندر ایسی قوت پیدا ہو جائے گی جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکے گی ۔ جن شرطوں کے ساتھ میں تمہیں صبر کی تعلیم دیتا ہوں ان شرطوں کے ساتھ اگر تم دشمنوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرو تو تم میں سے ہر شخص ایسا بم ہو گا جو ساری دنیا کو اڑا کر رکھ دے گا ۔ دیکھو ! ہوائی بندوق میں صرف ہوا بھر کر اس سے کام لے لیا جاتا ہے۔ سپین میں ہوائی تو پیں بھی بنائی گئی ہیں اسی طرح میں بھی تم میں ہوا بھر رہا ہوں اور تمہاری اس طاقت سے اشاعت اسلام میں کام لینا چاہتا ہوں ۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر میرے بتائے ہوئے طریق پر چل کر صبر کے مراحل کو تم طے کر گئے تو ایک دن ایسا آئیگا کہ تم اخلاص و عشق کا ہتھیار لیکر کھڑے ہو جاؤ گے اور ساری دنیا میں ایک آگ لگا دو گے۔ لیکن افسوس کہ ابھی وہ دن نہیں آیا۔ میں چاہتا ہوں کہ جو جو مظالم تم پر کئے جاتے ہیں وہ تمہارے دلوں میں انگار بن کر جمع ہوتے چلے جائیں ۔ لیکن ان کا دُھواں باہر نہ نکلے یہاں تک کہ تم ان انگاروں سے جل کر اندر ہی اندر راکھ ہو کر بھسم ہو جاؤ۔ وہ ویسی ہی بند آگ ہو جیسی دوزخ کی آگ کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ بند ہوگی ۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ تمہارے اندر ایک آگ ہو جو جہنم کی آگ کی طرح بند ہو کہ جب اسے باہر نکلنے کا اذن ملے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہارے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جہنم کی آگ میں سے اگر ایک رائی کے برابر آگ بھی ساری دنیا پر ڈالی جائے تو دنیا جل کر راکھ ہو جائے ۔ میری کوشش یہ ہے کہ میں وہ جہنم کی آگ تمہارے اندر پیدا کروں جو پہاڑوں کے برابر ہو۔ اگر جہنم کی رائی بھر آگ ساری دنیا کو جلانے کے