خطبات محمود (جلد 16) — Page 788
خطبات محمود ۷۸۸ سال ۱۹۳۵ء لئے کافی ہے تو جو آگ میں تمہارے دلوں میں پیدا کرنی چاہتا ہوں اگر پیدا ہو جائے تو ایک دنیا نہیں ، ہزاروں دنیا ؤں کو تم جلانے کے قابل ہو جاؤ۔مگر جو آگ کھلی ہوتی ہے وہ آپ ہی آپ ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔پس یہ مت سمجھو کہ میں تمہیں بزدل بنا رہا ہوں میں تمہارے اندر وہ آگ پیدا کر رہا ہوں جو کفر و شرک کو جلا کر راکھ کر دے اور اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب پر غالب کر دے۔پس کوئی تم میں سے باہر جا کر اس قسم کے واقعات کو سن کر جوش میں نہ آئے اور اگر جوش آئے تو اُسے دبائے اور کہے کہ میں بھی کفر و شرک کو دنیا سے مٹا کر دم لوں گا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ تم سے آدمی لڑائی کرتے ہیں یہ آدمی نہیں لڑتے بلکہ شیطان لڑتا ہے۔وہ تو آخر ہمارے بھائی ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ وہ لڑائی لڑتے پھرتے ہیں۔اسی لئے کہ شیطان انہیں اُکساتا ہے۔پس شیطان سے تمہارا مقابلہ ہے اور شیطان کو تم لٹھ مار کر ہلاک نہیں کر سکتے۔تم آدمی کو لٹھ مار سکتے ہو لیکن شیطان کولھ نہیں مار سکتے۔اسے تو وہ دعائیں ہلاک کریں گی جو تم راتوں کو اُٹھ کر کرو گے اور اسے وہ تبلیغ ہلاک کرے گی جو تم دن کے وقت کرو گے۔بے شک تم میں سے کئی لوگوں کے دلوں میں یہ جوش اُٹھتا ہو گا کہ آؤ ہم مر جائیں۔مگر میں کہتا ہوں تم اگر مرنا چاہتے ہو تو جاؤ اور دنیا کے ان گوشوں میں مروجہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام نہیں پہنچا۔جاؤ اور دنیا کے ان گوشوں میں مروجہاں محمد ﷺ کا نام نہیں پہنچا۔جاؤ اور دنیا کے اُن گوشوں میں مرو جہاں ابھی خدا کا نام بھی نہیں پہنچا۔ہمارے چین کے مبلغ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ چین میں کوئی خدا تعالیٰ کا نام نہیں جانتا اور نہ اُس کی صفات کا کسی کو پتہ ہے۔پس یہاں مرنے سے کیا فائدہ ہے۔تم یہاں مرجاؤ گے تو وہ ملک خالی رہ جائیں گے جہاں ابھی خدا تعالیٰ کا نام تک نہیں پہنچا۔تم یہاں مرجاؤ گے تو وہ ملک خالی رہ جائیں گے جہاں ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تک نہیں پہنچا۔تم یہاں مر جاؤ گے تو وہ ملک خالی رہ جائیں گے جہاں ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام نہیں پہنچا۔پس اگر مرنے کی ہمت ہے تو جاؤ اور اُن علاقوں میں مرو جہاں خدا اور اُس کے رسولوں کا نام کوئی نہیں جانتا۔وہاں اگر ایک دفعہ بھی اللہ اکبر کہ کر تم خدا تعالیٰ کا نام پہنچا دیتے ہو ، ایک دفعہ بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہ کر رسول کریم ﷺ کا نام پہنچادیتے ہو، ایک دفعہ بھی احمدیت کا ذکر کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچا دیتے ہو اور پھر وہیں مر جاتے ہو تو سمجھا جا الله