خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 632 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 632

خطبات محمود ۶۳۲ سال ۱۹۳۵ء اور اس کا سمجھنا ان کے لئے بہت آسان بات ہے کہ اس عظیم الشان کام کے لئے جو ہمارے سپرد کیا گیا عظیم الشان تیاری کی ضرورت ہے ۔ دنیا میں ہر کام کے لئے کچھ نہ کچھ سامان ہوتے ہیں اور جب تک وہ مہیا نہ ہوں کام نہیں ہوتا ۔ اگر ایک شخص لاکھوں کروڑوں روپیہ کا مالک ہولیکن وہ جنگل میں ایسے حالات میں مبتلاء ہو جائے کہ روٹی پکانے کے لئے اُسے آٹا میسر نہ ہو۔ فرض کر وجنس اُسے وقت پر نہ پہنچ سکے یا اُس کا مہیا کردہ سامان ضائع ہو جائے ۔ چوروں نے اُسے چُرا لیا ہوا اور وہ ٹھو کا بیٹھا ہو تو اُس کی بھوک کو دور کرنے کے لیے وہ لاکھوں کروڑوں روپیہ اس کے ہرگز کام نہیں آ سکتا ۔ اگر موتیوں کی مالا بھی اس کے پاس موجود ہے تو وہ اس کے کام نہیں آئے گی اس لئے کہ پیٹ بھرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے موتیوں کی مالا یا روپے نہیں بنائے بلکہ آٹا بنایا ہے تو باوجود دولت مند ہونے کے ، با وجود لاکھوں اور کروڑوں روپیہ کا مالک ہونے کے جنگل میں بھوک کے وقت ایسی حالت میں جبکہ کھانے کا کوئی سامان اُس کے پاس نہ ہو ، دولت اُسے کام نہیں دے سکے گی اور وہ اپنی خواہش کو پورا نہیں کر سکے گا ۔ یا فرض کرو کہ کوئی شخص ملیریا سے یا سے بیمار ہے وہ بہت بڑا دولتمند ہے اُس کے پاس کھانے پینے کے بے انتہاء سامان ہیں ، آٹے کی بوریاں ، گھی کے پہیے، اور موٹے تازے دُنبے با افراط موجود ہیں لیکن یہ ساری چیزیں مل کر بھی اس کے ملیریا کو دور نہیں کر سکتیں ۔ بلکہ ملیریا کو دور کرنے کے لئے کونین یا چرائتہ یا ایسی ہی اور ادویہ درکا ر ہونگی ۔ اور جب تک یہ چیزیں اسے میسر نہ آئیں گی وہ بخار میں مبتلاء رہے گا۔ یا اگر ایک شخص ننگا ہے تو اس کے ننگ کو ڈھانکنے کے لئے اگر ساری دنیا کی دوائیں موجود ہوں تو بھی کام نہیں دے سکتیں ۔ قیمتی سے قیمتی ادویہ ، اعلیٰ سے اعلیٰ ٹیکے اور بڑے سے بڑے ہسپتال اگر اس کے لئے موجود ہیں ، ہیروں اور موتیوں کا انبار اُس کے سامنے لگا ہوا ہے تو یہ ساری چیزیں مل کر بھی ایک تہہ بند کا کام نہیں دے سکتیں ۔ ہاں اگر گز بھر کپڑا اسے مل جائے تو وہ اُس کے ننگ کو ھانک دے گا ۔ ۔ یا ا اگر کسی کو تعلیم کی ضرورت رورت ۔ ہو وہ حاجت مند ر ہوتا ہوتا ۔ ہے ایک علم رکھنے والے اُستاد کا ، اور وہ حاجت مند ہوتا ہے ایک صحیح کتاب کا ۔ اگر یہ دو چیزیں اُسے میسر نہ ہوں تو ساری دنیا کی نعمتیں مل کر بھی اس کی یہ ضرورت پوری نہیں کر سکتیں ۔ بڑی بڑی فوجیں عظیم الشان قلعے اور وسیع زمینیں اگر اُسے میسر ہیں ، دولت اُس کے پاس موجود ہے لیکن یہ دو چیز میں نہیں تو وہ علم نہیں سیکھ سکتا۔ ہاں اگر اسے جاننے والا اُستاد اور علم پر مشتمل کتاب مل جاتی ہے تو وہ اپنے مقصد کو حاصل کر لیتا ہے ۔ غرض اللہ