خطبات محمود (جلد 16) — Page 631
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء دینی تعلیم وتربیت کی ضرورت فرموده ۲۵ /اکتوبر ۱۹۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ہماری جماعت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو کام مقرر فرمایا ہے اور جن اغراض و مقاصد کو لے کر وہ اس وقت دنیا میں کھڑی ہے، اس کی اہمیت کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔اپنے اور پرائے دونوں کو تسلیم کرنا پڑتا ہے اور تسلیم کر رہے ہیں کہ بہت بڑا کام ہے جو ہماری جماعت اپنے ذمہ ظاہر کرتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ دشمن ہمارے دعوؤں کو جھوٹا سمجھے یا ہمارے اغراض و مقاصد کو مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملانے یا ان کی ہمدردی حاصل کرنے کا بہانہ قرار دے لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ہر شخص خواہ وہ موافق ہو یا مخالف ، اس مقصد کو بہت بڑا سمجھتا ہے۔پس جس مقصد کی اہمیت کا دوست و دشمن قائل ہو ہمیں غور کرنا چاہئے کہ اس کی تیاری کے لئے ہمیں کتنی بڑی مستعدی اور کس قدر سرگرمی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہر شخص جو ہم میں سے دیانتداری کے ساتھ غور کرے یہ امر بخوبی سمجھ سکتا ہے لیکن دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ساری عمر آنکھیں رکھنے کے باوجود نہیں دیکھتے ، کان رکھنے کے باوجود نہیں سکتے اور دل رکھنے کے باوجود نہیں سمجھتے۔وہ خدا تعالیٰ کی آیات کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر ایسی حالت میں کہ وہ اندھے ، بہرے، اور گونگے ہوتے ہیں۔نہ اپنے خیالات کا خود اندازہ کر سکتے ہیں اور نہ دوسروں تک انہیں پہنچا سکتے ہیں۔اس قسم کے آدمیوں کا میں ذکر نہیں کرتا بلکہ جو لوگ اپنی عقل کو کام میں لانے کے عادی ہیں، ان کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اس امر کو سمجھ سکتے ہیں