خطبات محمود (جلد 16) — Page 630
خطبات محمود ۶۳۰ سال ۱۹۳۵ء جاتے ہیں مگر چونکہ نمازیں پڑھنے کی لوگوں کو عادت ہوتی ہے اس لئے بوجھ محسوس نہیں کرتے بلکہ جو لوگ زیادہ نمازیں پڑھنے کے شائق ہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہو سکتا تو وہ اور نمازیں بھی اپنے پر فرض کرنے کو تیار ہو جائیں ۔ اسی طرح دوسرے کاموں سے بھی اگر ہم رغبت پیدا کر لیں تو ان کا کرنا ہمیں کچھ بھی بوجھ محسوس نہ ہو۔ مثلاً اگر گھر والوں کو بھی خیال رہے کہ کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے دروازہ پر پھینک دینا اچھی بات نہیں ، اگر ہر محلہ میں نگرانی کی جائے اور کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں سے کہا جائے کہ ہم فلاں جگہ تمہیں کوڑا پھینکنے نہیں دیں گے تو گو چند دن نگرانی کرنی پڑے گی مگر آخر عادت ہو جائے گی اور محلہ گند سے پاک ہو جائے گا ۔ اسی طرح ہندو مسلمان ، عیسائی سکھ کسی مذہب وملت کے یتیم و مسکین کی پرورش کی جائے اور اس کے احساسات کا خیال رکھا جائے تو رفتہ رفتہ اسی کام میں لذت آنی شروع ہو جائے گی ۔ اور یہی کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ کہہ کر ہمارے ذمہ ڈالا گیا ہے کہ ہم اپنی ہر نعمت سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچائیں اور اپنا وجود ان کے لئے مفید ترین بنائیں ۔ اور میں سمجھتا ہوں اب ہماری جماعت کے لئے وقت آ گیا ہے کہ وہ اِس حکم پر بھی عمل کرے ۔ در حقیقت قرآن کریم سارے کا سارا ہمارے لئے قابلِ عمل ہے ۔ اور اگر ہم کسی ایک حکم پر بھی عمل نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے ہاتھ اور اپنے پاؤں خود کاٹتے ہیں ۔ الفضل ۲۴ اکتوبر ۱۹۳۵ء ) ا النساء : ١٤٣ الم نشرح : ۹۰۸ الضحى : ۱۲ ۴ التوبة : ۲۴ ۵ بخاری كتاب الجهاد باب قول الله عَزَّ وَجَلَّ من المؤمنين رجال صَدَقُوا (الخ) + سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۸۵ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ بخاری کتاب المغازى باب غَزْوة أحد ے بخاری کتاب المناسک باب النزول بين عرفة و جمع بخاری کتاب العلم باب طرح الامام المسئلة على اصحابه ليختبر ما عندهم من العلم و بخارى كتاب الجنائز باب من انْتَظَرَ حَتَّى يُدْفَنَ مسلم کتاب المساقات والمزارعة باب الامر بقتل الكلاب ال بخارى كتاب المظالم باب مَنْ أَخَذَ الْغُصْنَ وَمَا يُؤْذِي النَّاسَ فِي الطَّرِيقِ فَرَمَى بِهِ