خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 629

خطبات محمود ۶۲۹ سال ۱۹۳۵ء کے لئے کچھ نہ کچھ وقت نکالنا چاہئے۔مثلاً صفائی ہی ہے جس کی طرف سخت توجہ کی ضرورت ہے قادیان کے راستوں اور گلی کوچوں میں اتنا گند ہوتا ہے کہ گز را نہیں جاتا۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ صفائی کے لئے کوئی قدم اُٹھاؤ ، میں خود شریک ہونے کے لئے تیار ہوں مگر نہ نظارتیں اس طرف توجہ کرتیں ہیں اور نہ محلہ وار انجمنیں۔اگر کوئی اس قسم کا کام شروع کیا جائے تو جب میں اس میں شامل ہونے کے لئے جاؤں گا تو مخلص لوگ تو جائیں گے ہی ، مجھے دیکھ کر کمزور لوگ بھی چلے جائیں گے۔اور اس طرح ” ہم خرما ہم ثواب کی مثل کے مطابق اس میں شامل ہو جائیں گے۔اور اگر یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اگر ہر محلہ میں لوگ اپنے اپنے دروازوں کے آگے گند جمع نہ ہونے دیں تو اس طرح بھی بہت حد تک صفائی ہو سکتی ہے۔ان امور کی طرف توجہ نہ کرنے کے نتیجہ میں کتنی بیماریاں ہیں جو آتی ہیں۔ہیضہ، طاعون ، ٹائیفائڈ وغیرہ سب بیماریاں گندگی سے ترقی پاتی ہیں اور غلاظت کا نتیجہ ہوتی ہیں رسول کریم ﷺ بھی کی دفعہ صحابہ سے اس قسم کا کام لے لیا کرتے۔ایک دفعہ آپ نے حکم دیا کہ آوارہ کتے مارو چنا نچہ صحابہ گتے مارتے رہے۔پھر رسول کریم ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر ایک کا نٹا بھی راستہ سے ہٹا دیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ملتا ہے۔لے جب راستہ سے کا نٹا ہٹانے والے کا ثواب ہے تو یہاں جو ڈھیروں ڈھیر غلاظت پڑی ہوتی ہے کیا اسے دور کر نے کا ثواب نہیں ہو گا۔عام طور پر ہمارے ملک میں لوگ راستہ پر پیشاب کرنے بیٹھ جاتے ہیں اگر کہا جائے کہ دس قدم ہٹ کر پیشاب کرو تو ناراض ہو جاتے ہیں۔اور ہمارے پنجابی تو بعض دفعہ عجیب رنگ میں جواب دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں ” چھڈ بھی یار تینوں کدی پیشاب نہیں آندا“۔اور یہ کہہ کرو ہیں پیشاب کرنے بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ یہ تہذیب کی بالکل ابتدائی باتیں ہیں۔اور اگر دس دن بھی لوگ احتیاط کریں تو سب کو اس کا فائدہ محسوس ہونے لگے گا۔اور آئندہ کے لئے اس قسم کی باتیں نہ ہونے دیں گے۔پس یتامی و مساکین کی خبر گیری کرو ، بیواؤں کی خبر گیری کرو ، لوگوں کی اخلاقی تمدنی اور اقتصادی حالت کی درستی کی طرف توجہ کرو اور یاد رکھو کہ چند دن کے بعد ہی تم کو ایسی عادت پڑ جائے گی کہ یہ کام بوجھ نہیں معلوم ہو نگے۔دیکھ لو نمازوں پر کتنا زیادہ وقت خرچ ہوتا ہے کئی گھنٹے اس پر خرچ ہو