خطبات محمود (جلد 16) — Page 628
خطبات محمود ۶۲۸ سال ۱۹۳۵ء میں محض اس لئے مر جاتی ہیں کہ انہیں بر وقت صحیح امداد نہیں ملتی۔چونکہ عام عورتیں زچگی کے اصول نہیں جانتیں اور بوجہ غریب اور ان پڑھ ہونے کے صفائی کے اصول سے بھی ناواقف ہوتی ہیں اس لئے ذراسی بے احتیاطی کی وجہ سے ان کی جانیں ضائع چلی جاتی ہیں۔میں نے لجنہ سے کہا ہے کہ اگر تم اور کچھ نہیں کر سکتیں تو یہی کر لو کہ جب کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو تو دو چار دن صحیح طریق پر اُس کے لئے امداد بہم پہنچائی جائے۔یہ صرف دو چار دن کی بات ہوتی ہے مگر ان دو چار دنوں میں ہی سینکڑوں عورتیں مر جاتی ہیں اور ایسی معمولی معمولی غفلت کی وجہ سے مرجاتی ہیں کہ انسان انہیں معلوم کر کے تعجب کرتا ہے۔تو بہت بڑے کام کئے جا سکتے ہیں اور ہر طبقہ اور ہر سوسائٹی کے لوگ ان میں حصہ لے سکتے ہیں مگر اس طرف رغبت بہت کم ہے اور امید یہ کی جاتی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعامات وہ ملیں جو کامل مؤمنوں کو ملا کرتے ہیں جو کسی طرح ممکن نہیں اگر تم کڑوی چیز بوؤ گے تو کڑوی ہی آگے گی میٹھی چیز بوؤ گے تو میٹھی آگے گی ، کھٹی چیز بوؤ گے تو کھٹی آگے گی۔جیسی جیسی محبت کا رنگ پیدا کرو گے اُسی قدر اللہ تعالیٰ کے انعامات بھی تمہیں حاصل ہونگے خالی منہ کے دعووں سے کچھ نہیں بن سکتا۔پس ایسے وقت میں جبکہ جماعت مصائب شداد میں گھری ہوئی ہے۔میں توجہ دلاتا ہوں کہ یہ وقت ہوشیاری کا ہے۔اب بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو اور مخلوق سے ہمدردی کر کے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو۔صرف ارادہ اور عزم کی ضرورت ہے سامان اللہ تعالیٰ خود بخود مہیا کر دیتا ہے۔قادیان کے لوگوں پر خصوصیت سے بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے میں نے محلہ وار انجمنیں اسی غرض کے لئے بنائی تھیں کہ وہ اس قسم کے کاموں میں مستعدی سے حصہ لیں مگر ان کے پریذیڈنٹ بھی اسی طرح سُست ہو گئے جس طرح اور لوگ سُست ہیں اور وہ ہمدردی اور اخوت جو ہر شخص میں ہونی چاہئے اس کا انہوں نے بہت کم نمونہ دکھایا ہے۔بے شک پچھلے دنوں جب وقف کنندگان میں سے ایک نو جوان نذیر احمد پر ایک حادثہ گزرا تو یہاں کی جماعت کے افراد نے بہت اچھا نما نہ دکھایا۔کئی لوگ راتوں رات بٹالہ گئے اور انہوں نے اچھی خدمت کی۔یہ چیزیں مجھے یاد ہیں بھولی ہوئی نہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اس سے بہت زیادہ کام اور مستقل کام کرنے کی ضرورت ہے۔جب کوئی صدمہ تازہ ہو اُس وقت ہر شخص کے دل میں جوش ہوتا ہے مگر پھر جوش ٹھنڈا ہو جاتا ہے اس لئے روزانہ ان کاموں