خطبات محمود (جلد 16) — Page 627
خطبات محمود ۶۲۷ سال ۱۹۳۵ء ہے کہ بلا وجہ انجمنیں اور سوسائٹیاں بنانا اچھا نہیں۔مگر اس قسم کے کاموں کے لئے جیسا بیواؤں کی خبر گیری یا یتامیٰ کی پرورش اور ان کی نگرانی کے نقطہ نگاہ کے ماتحت قیموں کو گھروں میں بھی رکھا جا سکتا ہے مگر کئی لوگ یتامیٰ کو اپنے گھروں میں رکھ کر ایسا ظالمانہ سلوک ان سے کرتے ہیں کہ حالات سن کر دل ڈر جاتا ہے۔وہ گھروں میں ان کی پرورش نہیں کرتے بلکہ ان پر ظلم کرتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ان سے کام نہیں لینا چاہئے۔کام تو لیا جائے بلکہ اپنے بچوں سے بھی کام لینا چاہئے مگر اپنے بچوں کی طرح کبھی ان سے پیار بھی تو کرنا چاہئے۔نہ سہی اپنے بچے جتنا ، اس سے کچھ کم سہی۔یتیم اگر یہ نہ سمجھے کہ میں اس کا بیٹا ہوں تو کم از کم یہ تو سمجھے کہ میں اس کا بھتیجا ہوں یا کوئی رشتہ دار ہوں۔یا درکھو عوام کی بہبود کے کام عورتیں بھی کر سکتی ہیں اور مرد بھی۔پھر اس قسم کے کاموں میں کسی خاص مذہب کا سوال نہیں ہوتا اور نہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ صرف مسلمان سے ہمدردی کی جائے بلکہ ایک ہندو ، ایک سکھ ، ایک عیسائی اور ایک یہودی غریب سے بھی اسی طرح کا حسن سلوک کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدّث۔تم پاگلوں کی طرح دنیا میں دوڑے پھر واور جو نعمت اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے ، اس سے لوگوں کو مستفید کرو۔روپے کے متعلق اگر بخل بھی کر لیا جائے تو دوسری چیزوں کے متعلق بخل کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔وہ تو جتنی خرچ کی جائیں، اتنی ہی بڑھتی ہیں روپیہ بھی خرچ کرنے سے بڑھتا ہے مگر اس کا بڑھنا ہر ایک کو نظر نہیں آ سکتا۔لیکن باقی چیزوں کے متعلق تو ہر شخص جانتا ہے کہ انہیں جتنا خرچ کیا جائے۔اتنی ہی بڑھتی ہیں۔بڑے بڑے نامور ادیب جو دنیا میں گزرے ہیں اُن کی کتابوں پر بعض دفعہ معمولی معمولی مدرس اعتراض کر دیا کرتے ہیں جس کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ مدرس روزانہ تعلیم دینے کی وجہ سے صرف ونحو کے مسائل سے خوب واقف ہوتا ہے لیکن ادیب کو ان باتوں کا زیادہ علم نہیں ہوتا۔پس یاد رکھو کہ اگر خدا تعالیٰ کا قرب چاہتے ہو تو اپنے آپ کو مفید بنانے کی کوشش کرو۔اس بارے میں کسی علم کی ضرورت نہیں ، دولت کی ضرورت نہیں بلکہ تم میں سے اگر کسی کی مالی حالت کمزور ہے یا علمی حالت کمزور ہے تب بھی وہ ایسے کاموں میں حصہ لے سکتا ہے جن میں بنی نوع انسان کا فائدہ ہو۔قادیان کی لجنہ اما اللہ کو بھی میں نے بار ہا اس کی طرف توجہ دلائی ہے مگر انہوں نے اب تک کوئی توجہ نہیں کی۔اس کی ذمہ داری میری بیویوں اور لڑکیوں پر بھی ہے اور باقی عورتوں پر بھی۔میں نے کئی دفعہ کہا ہے کہ کئی عورتیں زچگی