خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 596

خطبات محمود ۵۹۶ سال ۱۹۳۵ء لئے وہ اور پانچ سو آدمی لائیں ہم بھی دوسرے پانچ سو اس مباہلہ کے لئے پیش کریں گے۔دونوں مباہلوں کو ملانے کی ضرورت نہیں۔میں اُن کی اس ہوشیاری کو سمجھتا ہوں۔بات یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں انہیں پانچ سو ایسے آدمی ملنے مشکل ہیں جو واقعی یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم ﷺ کی ہتک کی ہے۔صداقت مسیح موعود کا مسئلہ علیحدہ ہے جس پر غیر احمد یوں میں سے ایک تعداد کو واقعی شبہ ہے اور اس کے لئے ان میں سے مباہلہ کرنے والے مل سکتے ہیں لیکن رسول کریم ﷺ کی ہتک والا الزام ایسا ہے کہ ہر عقلمند اسے غلط سمجھتا اور جانتا ہے کہ آپ نے آنحضرت ﷺ کی ہتک نہیں کی بلکہ آپکی عزت کو قائم کیا ہے۔پس میں کہتا ہوں کہ یہ مباہلہ بھی ضرور ہو مگر اس سے علیحدہ ہو۔وہ اس کے لئے دوسرے پانچ سو آدمی لائیں اور ہم بھی ایسا ہی کریں گے ہاں لیڈ روہی ہوں۔ان کے وہی پانچوں لیڈر ایک مباہلہ میں شامل ہوں اور وہی دوسرے میں۔ادھر میں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے مردمبر اور ناظر دونوں میں شریک ہو نگے اور پانچ پانچ سو آدمی دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ ہو نگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کوئی ایسی چیز نہیں جس پر مباہلہ کرنے سے ہمیں گریز ہو۔ہم آپ کی صداقت پر جہاں وہ چاہیں قسم کھانے کو تیار ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہی ہم نے اسلام کی صداقت سمجھی ہے ورنہ جس رنگ میں یہ مولوی اسلام کو پیش کرتے ہیں اس رنگ میں اسے کون معقول شخص مان سکتا ہے۔جو نا معقول یہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد بہن کو دیکھا اور نَعُوذُ بِاللہ اس پر عاشق ہو گئے ایسے بیوقوفوں کے بتائے ہوئے اسلام کو کون مان سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کا بتایا ہوا اسلام تو وہ ہے جو رسول کریم ﷺ کی عصمت کو ثابت کرتا ہے اور جو قرآن کریم میں ہے صحیح احادیث میں ہے مگر کون ہے جو ہمیں قرآن کریم کی طرف لایا، صحیح احادیث کی طرف لایا یا تازہ نشانات کی طرف لایا ؟ یہ سب کچھ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ملا۔اور اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ ہم آپ کی صداقت کے متعلق مباہلہ کرنے سے ایک منٹ کے لئے بھی پس و پیش کر سکتے ہیں ہم اس کے لئے تیار ہیں اور ہر میدان میں تیار ہیں لیکن احرار اس کے لئے علیحدہ پانچ سو آدمی لائیں ہم بھی علیحدہ لائیں گے اور اس طرح دو مباہلے ہوں تالِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَّ يَحْىٰ مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ کا نظارہ دنیا دیکھ لے۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ خالی مسجد آرائیاں میں تقریر کرنے سے