خطبات محمود (جلد 16) — Page 597
خطبات محمود ۵۹۷ سال ۱۹۳۵ء کام نہیں چل سکتا وہ با قاعدہ شرائط طے کریں بلکہ میں نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مجھے اپنی پیش کردہ شرائط پر اصرار نہیں۔انہیں اگر کوئی شرط بو جھل معلوم ہوتی ہے تو اسے پیش کریں ، میں چھوڑنے کو تیار ہوں مگر یہ ضرور ہے کہ مباہلہ ہوا ایسے رنگ میں کہ اللہ تعالیٰ کا زندہ نشان دنیا کو نظر آ جائے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَنَّ اللهَ لَسَمِیعٌ عَلِیمٌ اس میں بتایا ہے کہ جب بھی مؤمن اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں گے وہ ضرور ان کی دعاؤں کو سنے گا۔پس میں احرار کو پھر ایک دفعہ تو جہ دلاتا ہوں کہ وہ اس پیالہ کو ٹالنے کی کوشش نہ کریں شرائط طے کر لیں کسی شرط پر اگر انہیں کوئی اعتراض ہو تو اسے پیش کریں اور اس طرح فیصلہ کر کے مباہلہ کر لیں۔کسی مولوی کے نام کے ساتھ لمبے چوڑے خطابات درج کر کے اسے یہاں بھیج دینا کہ مسجد آرائیاں میں ساٹھ ستر لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر کہہ جائے کہ احمدی فرار اختیار کر گئے ٹھیک طریق نہیں۔نہ شرائط کا تصفیہ، نہ تاریخ کا تعین اور نہ ان لوگوں کی طرف سے کوئی جواب جن کو مخاطب کیا گیا ہے اور یونہی کسی کا مسجد میں آکر کہہ جانا تو ایسا ہی ہے جیسے پنجابی میں کہتے ہیں۔کنک کھیت ، گڑی پیٹ آجو ا ئیا منڈے کھا۔یعنی لڑکی پیدا نہیں ہوئی، گندم موجود نہیں اور داماد سے کہا جائے کہ آؤ روٹیاں کھا لو۔جب نہ کوئی تاریخ مقرر ہے نہ شرائط طے ہوئی ہیں تو احمدی فرار کیسے کر گئے؟ فرار تو تب ہے کہ شرائط طے ہو جائیں ، وقت مقرر ہو جائے اور پھر ایک فریق نہ آئے۔پس میں احرار کو تو جہ دلاتا ہوں کہ اس طرح کی باتوں سے اب کام نہ چلے گا وہ اب خواہ کسی رنگ میں آئیں خدا کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔(الفضل ۸/اکتوبر ۱۹۳۵ء) الانفال: ۴۳ تا ۴۵ ک سیرت ابن هشام جلد ۲ صفحه ۱۲، ۱۳ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ ے سیرت ابن ھشام جلد ۲ صفحه ۱۵ مطبوعه مصر ۱۲۹۵ھ بخاری کتاب المغازی باب فَضْلٍ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا المائدة: ۲۵