خطبات محمود (جلد 16) — Page 547
خطبات محمود ۵۴۷ سال ۱۹۳۵ء گرانے آیا ہوں اور کہتا ہوں کہ مجھ سے جو مانگنا ہو مانگو، مگر تم بجائے یہ کہنے کے کہ ہمارا کعبہ مت گراؤ، یہ کہتے ہو کہ میرے دوسو اونٹ واپس کر دیئے جائیں۔بھلا ایسے خطرے کی حالت میں اونٹوں کا خیال کرنا بھی کوئی عقلمندی ہے؟ حضرت عبد المطلب نے جواب دیا۔اصل بات یہ ہے کہ تم نے میری بات پر غور نہیں کیا ور نہ اسی سے جواب سمجھ جاتے۔عبد المطلب صرف دوسو اونٹوں کا مالک ہے جب اسے اپنے اونٹوں کی فکر پڑ گئی تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خانہ کعبہ کے مالک خدا کو اپنے گھر کی کوئی فکر نہیں۔میں جانتا ہوں کہ اگر یہ کعبہ خدا کا گھر ہے تو اس گھر کا مالک اس کی آپ حفاظت کرے گا مجھے اس کی فکر کی کیا ضرورت ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ انسانوں کا کام بھی ہوتا ہے کہ وہ شعائر اللہ کی حفاظت میں حصہ لیں مگر یہ محض ثواب کے لئے ہوتا ہے۔اصل حفاظت وہی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ خود کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ میں آپ کو دشمنوں کے حملوں سے بچاؤں گا مگر با وجود اس کے صحابہ نے رسول کریم لے کے گرد پہرے دیئے۔مگر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ صحابہ کے پہروں کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کی جان محفوظ رہی۔کیا ہزاروں بادشاہ مضبوط پہروں کے ہوتے ہوئے قتل نہیں ہو گئے؟ پھر کون کہہ سکتا ہے کہ صحابہ کے پہروں کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کی حفاظت ہوئی۔رسول کریم ﷺ کی حفاظت محض خدا تعالیٰ نے کی۔ہاں ثواب کے لئے صحابہ نے بھی اس میں حصہ لے لیا۔اسی طرح اگر خدانخواستہ خانہ کعبہ پر کوئی دشمن حملہ کر دے تو گو ہر مسلمان کا فرض ہو گا کہ وہ اپنی ہر چیز خانہ کعبہ کی حفاظت کیلئے قربان کر دے مگر اصل حفاظت وہی کرے گا جو خانہ کعبہ کا مالک اور ہمارا خدا ہے۔صلى الله میں اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کو ایک واقعہ سناتا ہوں جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں خانہ کعبہ کی عزت زیادہ ہے یا ہمارے دلوں میں۔آج سے کئی سال پہلے جب بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ تھے ، ایک ترکی سفیر یہاں آیا۔ترکی حکومت کو مضبوط بنانے کے لئے اس نے مسلمانوں سے بہت سا چندہ لیا اور جب اُس نے جماعت احمدیہ کا ذکر سنا تو قادیان بھی آیا۔حسین کامی اس کا نام تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس کی گفتگو ہوئی۔اس کا خیال تھا کہ مجھے یہاں سے زیادہ مدد ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس کا وہ احترام کیا جو ایک مہمان کا کرنا چاہئے۔پھر مذہبی گفتگو بھی ہوگئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُسے کچھ نصائح کیں کہ دیانت وامانت