خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 546

خطبات محمود ۵۴۶ سال ۱۹۳۵ء جو اس کے قبضہ میں تھا۔پس ابرہہ اور اُس کی فوجیں مالدار، دولت مند اور ساز و سامان رکھنے والی تھیں۔جب فو جیں مکہ کے قریب پہنچیں تو اس لاؤ لشکر کو دیکھ کر مکہ والوں کو کچھ بھی نہ سُوجھا اور وہ چپ ہو کر بیٹھ گئے۔ابرہہ نے ایک چھوٹا سا دستہ آگے بھیجا جو مکہ والوں کے بہت سے جانور جو باہر چر رہے تھے سمیٹ کر لے آیا۔ان جانوروں میں دو سو اونٹ حضرت عبدالمطلب کے بھی تھے۔اس کے بعد ابرہہ کے لشکر میں بیماری پھیل گئی اور اُس کی فوج کے لوگ پے در پے مرنے لگے تو اُسے یہ خیال آیا کہ مکہ والے اگر مجھ سے آ کر کہیں کہ میں واپس چلا جاؤں تو میں واپس لوٹ جاؤں گا۔تاریخوں سے ثابت ہے کہ وہ بیماری چیچک تھی۔بہر حال کوئی نہ کوئی موت ایسی تھی جس نے ابرہہ کے لشکر کو تباہ کر دیا۔قرآن کریم میں بھی سورۃ الفیل میں اس کا ذکر آتا ہے۔ہر طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آتی تھیں اور جانور اُن کی بوٹیاں نوچ نوچ کر پتھروں پر مارتے اور کھاتے تھے۔جس طرح چیلیں اور گدھیں کھاتی ہیں جب بیماری نے اس کے لشکر کے اکثر حصہ کو نا کا رہ کر دیا تو اُس نے اپنی عزت رکھنے کے لئے اہل مکہ کو کہلا بھیجا کہ بعض سردار میرے پاس بھیجے جائیں میں اُن سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے ایک وفد بھیجا جس کے سردار عبد المطلب تھے جب وفد اُس کے پاس پہنچا اور حضرت عبدالمطلب نے ان سے باتیں کیں تو ان کی باتوں کا ابرہہ پر نہایت گہرا اثر پڑا اور سیاسیات میں ان کی رائے کو اُس نے نہایت ہی صائب اور معقول پایا۔اور اس امید میں رہا کہ ابھی یہ مجھ سے کہیں گے کہ خانہ کعبہ پر حملہ نہ کیا جائے اور لشکر واپس لے جائیں اور میں ان کے سر احسان رکھ کر واپس چلا جاؤں گا مگر حضرت عبد المطلب نے اس کا ذکر تک نہ کیا۔آخر کچھ دن انتظار کرنے کے بعد ابرہہ خود ہی کہنے لگا میرا دل چاہتا ہے آپ لوگ مجھ سے کچھ مانگیں تو میں دوں۔اسے پھر بھی یہی خیال رہا کہ یہ کہیں گے آپ خانہ کعبہ کو گرانے کا ارادہ ترک کر دیں اور واپس چلے جائیں۔وہ چونکہ اب لشکر ڈالے تنگ آچکا تھا اس لئے گفتگو کو ہیر پھیر کر اسی طرف لانا چاہتا تھا مگر حضرت عبد المطلب نے اس کا جواب صرف یہ دیا کہ میرے دوسو اونٹ آپ کے سپاہی پکڑ کر لے آئے ہیں وہ مجھے واپس کر دیئے جائیں۔یہ سنکر جیسے انسان دنگ رہ جاتا ہے اُس کا رنگ فق ہو گیا اور کہنے لگا آپ کی باتوں کا مجھ پر بڑا اثر تھا اور میں سمجھتا تھا کہ آپ بڑے ہی سمجھدار ہیں مگر آپ کی اس بات سے وہ سارا اثر جاتا رہا ہے۔انہوں نے پوچھا کس طرح ؟ اُس نے کہا تمہارے سامنے اس وقت اتنی خوفناک مصیبت ہے کہ میں تمہارے کعبہ کو