خطبات محمود (جلد 16) — Page 525
خطبات محمود ۵۲۵ سال ۱۹۳۵ء جاسکتی۔پھر آنحضرت ﷺ نے پہلے دن جو آواز بلند کی اس کے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا تھا کہ میری فتح ہوگی۔نپولین نے پہلے روز یہ بات نہیں کہی نادرشاہ نے پہلے ڈاکہ کے وقت یہ بات نہیں کہی ، تیمور اور بابر اپنے قبائل سے مصروف پر کار تھے تو انہوں نے اُس وقت یہ نہیں کہا کہ ہم ہندوستان کو فتح کریں گے مگر محمد ﷺ نے پہلے دن جب کلمہ طیبہ کا اعلان کیا، اسی دن یہ بھی کہہ دیا کہ میں اور میرے اتباع ساری دنیا کو فتح کریں گے اور یہ تقدیر کا ہی کام تھا۔یہ شرعی تغیرات کے نتائج تھے۔یورپ کے لوگوں نے بہت کوشش کی ہے کہ مسلمانوں کی فتوحات کے طبعی اسباب ثابت کریں۔وہ کہتے ہیں کہ ایران کی سلطنت اس وقت کمزور ہو رہی تھی ، عرب لوگ آوارہ تھے اس لئے رسول کریم ﷺ کو کا میابی ہوگئی مگر کیا یہ چیزیں ہمیشہ موجود نہیں ہوتیں پھر کیوں اوروں کو بھی ایسی فتوحات حاصل نہیں ہو جاتیں۔کیا آج ایران کمزور نہیں پھر کیوں اسے فتح نہ کر لیا گیا ؟ بے شک ہم مجسٹی رضا شاہ نے اس پر قبضہ کیا مگر اس طرح کہ پہلے وہ ترقی کرتے کرتے کمانڈر انچیف بنے اور پھر بادشاہ ہو گئے لیکن محمد رسول اللہ علی کو تو آپ کی قوم سپاہی بھی نہ بناتی تھی۔پھر آج ایران میں خانہ جنگی تھی مگر رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے مکہ والوں میں کامل اتحاد تھا۔پس یہ شرعی تغییرات کا نتیجہ تھا کہ آپ کامیاب ہو گئے اور یہی نتائج انبیاء کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں طبعی نتائج نہیں ہوتے۔وہ تو ظاہر ہو ہی رہے ہوتے ہیں ان کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ کو اپنا ماً مور مبعوث کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس زمانہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو رسول کریم ﷺ کا بروز بنا کر بھیجا ہے وہی وعدے آپ کی جماعت کے لئے ہیں جو صحابہ کے لئے تھے۔قرآن کریم میں آپ کی بعثت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانی قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی جماعت براہ راست رسول کریم ﷺ کے صحابہ کی جماعت سمجھی جائے گی۔وہی وعدے ہمارے لئے ہیں اس لئے وہی تغییرات ہمارے لئے ہونگے جو صحابہ کے لئے ہوئے مگر ان کے لئے اس پاکیزگی اور محبت کی ضرورت ہے جو انسان کی حالت کو بالکل بدل دے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ جسمانی تناسخ درست نہیں مگر روحانی تناسخ درست ہے مگر اس طرح نہیں کہ انسان حیوان بن جائیں