خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 526

خطبات محمود ۵۲۶ سال ۱۹۳۵ء اور حیوان انسان بلکہ اس طرح کہ کئی لوگ جو بندروں اور سؤروں والی عادات رکھتے ہیں وہ روحانی رنگ میں ترقی کر کے آدمی بن جاتے ہیں اور کئی آدمی عادات کی خرابی کی وجہ سے حیوان بن جاتے ہیں۔ہزار ہا لوگ گندے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرتا ہے اور وہ جون بدل لیتے ہیں۔ہماری جماعت میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو پہلے شرا میں پیتے ، چوریاں کرتے اور ڈاکے ڈالا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص بیعت کرنے آیا تو میں نے اس سے پوچھا تم کیا کام کرتے ہو ؟ اس نے کہا پہلے تو میں چوروں کا بادشاہ تھا جب تک جوان تھا چوروں کا سردار تھا اور جب بوڑھا ہو گیا تو چور خود بخوداس خوف سے کہ میری امداد کے بغیر وہ گرفت سے نہیں بچ سکیں گے اور کامیاب نہ ہوسکیں گے میرے گھر آ کر مجھے حصہ دے جاتے تھے۔ایسی ہزاروں مثالیں ہیں کہ اصلاح کے بعد پہلا آدمی بالکل بدل گیا اور اسکی جگہ نیا آدمی بن گیا حتی کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پہلا اور دوسرا ایک ہی آدمی ہے اور ایسی ہی اصلاح ایسے فضلوں کا وارث بنایا کرتی ہے جو رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ پر نازل ہوئے۔بےشک ہماری جماعت میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں جنہوں نے یہ اصلاح کی مگر جماعت تو لاکھوں کی ہے اور باقی جو ایسی اصلاح نہیں کرتے وہ ایسے ہی ہیں جیسے تیرنے والے کے گلے میں پتھر باندھ دیا جائے۔کمزور افراد جماعت کی ترقی میں روک ہو جاتے ہیں جیسے نفس کے مدارج ہیں اسی طرح انسانوں کے بھی ہیں۔ایک نفسِ مطمئنہ ہے۔اس کی مثال ایسے لوگوں کی ہے جو قربانی کا جب ارادہ کر لیتے ہیں تو پھر مسلسل کرتے چلے جاتے ہیں۔ایک نفس لوامہ ہے۔اس کی مثال ان لوگوں کی ہے کہ جب کبھی تقریریں سنتے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں یا قرآن کریم یا حدیث کا درس سنتے ہیں تو ان کے اندر قربانی کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے اور وہ قربانی کرنے بھی لگ جاتے ہیں مگر پھر کچھ عرصہ کے بعد سست ہو جاتے ہیں۔ان کی مثال کارک کی سی ہوتی ہے جو کبھی ڈوب جاتا ہے اور کبھی تیرنے لگتا ہے۔تیسر ا نفس امارہ ہے جس کی مثال پتھر کی ہے۔اسے جب پانی میں ڈالا جائے فوراً نیچے ڈوبتا ہے غرض پہلی قسم کے لوگ کشتی کی مانند ہیں جو پانی پر ڈالے جانے کے بعد کبھی نیچے نہیں جاتی۔دوسری قسم کے کارک کی مانند ہیں جو کبھی اوپر آ جاتا ہے اور کبھی نیچے۔اور تیسرے پتھر کی مانند ہیں جو نیچے جاڑ و بتا ہے اور جس قوم میں اتحاد ہو اس کے لئے یہ خطرہ بھی ہوتا ہے کہ کمزور دوسروں کو بھی نہ لے ڈو میں جیسے کشتی اگر علیحدہ ہو ، کارک علیحدہ اور پتھر علیحدہ تو کسی کو