خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 524

خطبات محمود ۵۲۴ سال ۱۹۳۵ء علیحدہ ہو کر وہاں جا چھپے تھے۔آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ وہاں ان کی تلاش کرو چنا نچہ وہ پکڑے گئے اور ان کو اقرار کرنا پڑا۔کے اور یہ مخالفت کا طوفان ابتداء سے ہی موجود تھا لیکن ادھر مخالفوں کی اس قدر کثرت اور آپ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کرنا اور اُدھر صحابہ کا کمزور ہونا اور پھر مقابلہ کا کوئی سامان نہ رکھنا مگر با وجود ان سب باتوں کے آپ کا محفوظ رہنا اور نہ صرف سارے عرب کا بادشاہ ہو جانا بلکہ آپ کے لگائے ہوئے پودے کا اس طرح پھیلنا کہ آپ کی امت کا ساری دنیا کو فتح کرنا اتنی حیرت انگیز ترقی تھی کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔چنانچہ جب مسلمان بڑھتے بڑھتے ایران تک جا پہنچے تو کسری نے اپنے فوجی افسروں سے کہا کہ یہ جانگلی لوگ جن کے پاس نہ کوئی سامان جنگ ہے نہ سامان بار برداری نہ کچھ کھانے پینے کے لئے ہے کیا تم ان کو بھی شکست نہیں دے سکتے ، اچھا بلاؤ ، میں ان کو کچھ دے دلا کر واپس کر دیتا ہوں۔چنانچہ اسلامی کیمپ میں یہ اطلاع بھیجی گئی اس پر بعض صحابہ اس کے دربار میں گئے ، تو اس نے کہا کہ تم وحشی لوگ گوہ کا گوشت کھانے والے، ماؤں سے شادیاں کر لینے والے، چور اور ڈاکو ہو تمہیں ہمارے مقابل پر آنے کی جرات کیسے ہوئی اور کیا سوجھی کہ ایران فتح کریں مگر میں اب بھی تمہیں انعام دے کر واپس کرنا چاہتا ہوں۔تمہارے افسروں کے لئے کچھ زیادہ اور سپاہیوں کے لئے اس سے کم مقرر کر دیا ہے یہ لے لو اور واپس چلے جاؤ۔مسلمانوں کے امیر وفد نے کہا کہ تم جو کچھ ہمارے متعلق کہتے ہو سب سچ ہے مگر اب ہماری وہ حالت نہیں اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل کیا اور اپنا رسول ہم میں بھیجا ہے جس نے ہمارے نقطہ ء نگاہ کو ہی بدل دیا ہے۔اُس وقت ایرانی لڑائی چھیڑ چکے تھے اس لئے امیر وفد نے کہا کہ اب تو سوائے اس کے کہ یا تم مسلمان ہو کر ہماری پناہ میں آ جاؤ یا ہم تلوار سے تمہیں فتح کر لیں اور کوئی صورت باقی نہیں۔کسری نے حکم دیا کہ مٹی کا تھیلا بھر کر لایا جائے اور پھر اس نے وہ امیر وفد کے سر پر رکھواتے ہوئے کہا کہ جاؤ اس کے سوا اب تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ آؤ ایران کے بادشاہ نے اپنا ملک اپنے ہاتھ سے ہمارے حوالے کر دیا ہے۔مشرک بہت وہمی ہوتا ہے اس بات کا اُس پر اتنا اثر ہوا کہ اُس نے کہا ان کو پکڑ کر ان سے مٹی کا تھیلا چھین لیا جائے۔اس کے آدمی دوڑے مگر عربی گھوڑوں تک کون پہنچ سکتا تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے ایسے غیر معمولی سامان آنحضرت ﷺ کی فتح کے پیدا کر دئیے کہ سوائے تقدیر کے کوئی اور وجہ اس کی نہیں بتائی