خطبات محمود (جلد 16) — Page 510
خطبات محمود ۵۱۰ سال ۱۹۳۵ء حوالہ نقل کرے تو اسے سزاد ینا اور دوسری قوم وہی کام کرے تو اسے کچھ نہ کہنا ہرگز انصاف نہیں کہلا سکتا ۔ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہماری صدر انجمن کے افسروں نے گورنمنٹ کو ایک پمفلٹ کے متعلق جو ہمارے خلاف شائع ہوا تھا بھی لکھی اور اسے توجہ دلائی تو گورنمنٹ نے لکھا ہم نے اس ٹریکٹ کو ضبط کر لیا ہے مگر احمد یوں کو بھی چاہئے کہ وہ اشتعال انگیز تحریریں شائع نہ کیا کریں ۔ یہ جواب پہنچنے پر ایک حصے ا۔ - پنجاب ناظر نے حکومت کو لکھا کہ ہم حکومت کے ممنون ہوں گے اگر وہ بتائے کہ جماعت احمد یہ کی طرف سے کونسی اشتعال انگیز تحریریں شائع کی گئی ہیں اور اگر حکومت ثابت کر دے تو ہم خود اس احمدی کو سزا دینے کے لئے تیار ہیں ۔ چنانچہ سکھوں کے خلاف ایک احمدی نے ایک کتاب لکھی تھی جس کے بعض ایسے تھے جوس جو سکھوں کے لئے اشتعال انگیز تھے اسے ہمارے خلیفہ المسیح نے ضبط کر لیا اور کونسل میں خود حکومت کی طرف سے اس رواداری کی تعریف کی گئی ۔ پس ہم نے کبھی پسند نہیں کیا کہ لوگوں میں منافرت پھیلانے والی تحریریں شائع کی جائیں اس لئے گورنمنٹ نے جو یہ لکھا ہے کہ احمدی بھی اشتعال انگیز تحریریں شائع نہ کیا کریں وہ بتائے کہ کس احمدی نے اشتعال انگیز تحریر لکھی مگر باوجود اس کے کہ دو دفعہ حکومت کے سامنے یہ بات دُہرائی گئی حکومت نے کوئی جواب اب تک نہیں دیا۔ ہاں ایک دفعہ زبانی اس طرف توجہ دلائی گئی تو ایک ذمہ دار افسر نے کہا کہ اس طرح بار بار حکومت کو مخاطب کرنا خواہ مخواہ دق کرنے کے مترادف ہے ۔ ہم اب بھی کہتے ہیں کہ اصولاً ہم کسی کا دل دُکھانے کو جائز نہیں سمجھتے مگر ہمارا حق ہے کہ ہم یہ مطالبہ کریں کہ قانون ہر قوم کے لئے ایک ہی ہونا چاہئے ۔ اگر حکومت سب کو ایسی تحریرات سے روکے تو ہم اس حد تک حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں کہ ہماری جماعت میں سے جو ایسا جرم کرے ، اسے علاوہ حکومت کی سزا کے ہم اپنی طرف سے سزا دیں گے جو حکومت کی سزا سے بھی سخت ہو گی لیکن اگر گورنمنٹ اس کے لئے تیار نہیں تو وہ سب کے لئے یکساں قانون بنائے ۔ ہمیں شکوہ ہے تو یہ کہ قانون کے دو معنی کئے جاتے ہیں ۔ ایک وہ معنی جو تھوڑوں کے لئے ہیں اور ایک وہ معنی جو بہتوں کے لئے ہیں ۔ اگر سب کے لئے ایک قانون کر دیا جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو ۔ چاہے دونوں کو اجازت دے دی جائے کہ وہ گزشتہ لوگوں کے حوالے نقل کرتے چلے جائیں اور چاہے دونوں کو منع کر دیا جائے ۔ قاضی صاحب کی اگر ایک کتاب ضبط کی جاتی ہے تو پھر وہ سارے اشتہارات ، ساری کتب اور سارے رسائل ضبط ہونے چاہئیں جن میں یہ درج