خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 455

خطبات محمود ۴۵۵ سال ۱۹۳۵ء پاس مولوی کرم دین والے مقدمہ کی اپیل پیش ہوئی تھی اس کا منصفانہ رویہ بھی ہمیں نہیں بھول سکتا ۔ پھر کس طرح چند آدمیوں کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پنجاب گورنمنٹ بُری ہے یا برطانوی قوم بُری ہے ۔ اس قوم کے متعلق پیشگوئیاں ہیں اور پیشگوئیاں اُسی وقت منسوخ ہوتی ہیں جب قوم مجموعی طور پر بگڑ جائے لیکن ان سب باتوں کے باوجود ایک چیز ہے جسے ان لوگوں کی موجودگی بھی نہیں روک سکتی اور وہ یہ کہ ہم پر ایسا کھلا کھلا ظلم کیا گیا ہے اور ایسی ہتک کی گئی ہے کہ جب تک اس کا ازالہ نہ کیا جائے ہم ویسا تعاون نہیں کر سکتے جیسا پہلے کرتے رہے ہیں اسی لئے میں نے صدر انجمن سے کہا ہے کہ حکومت پنجاب سے فیصلہ کرے کہ وہ ازالہ کے لئے تیار ہے یا نہیں ؟ اگر وہ تیار نہ ہو تو ہم اوپر جائیں اور اس کے بھی توجہ نہ کرنے کی صورت میں پھر ہم وہ سکیم اختیار کریں جو میرے ذہن میں ہے۔ اس وقت میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عقل کو جذبات کے تابع نہ کرو۔ چند حکام کی وجہ سے حکومت بری نہیں ہو سکتی اور چند افراد کی وجہ سے انگریز قوم بُری نہیں بن سکتی ، جس طرح چند احرار کی سے ساری مسلمان قوم کو بُر انہیں کہا جا سکتا ۔ جس طرح ملاپ“ پر تاپ‘ کے کسی نوٹ لکھ د سے ہند و قوم کو بُرا نہیں کہا جا سکتا۔ چنانچہ میرے پاس کئی ہندوؤں کے خطوط آئے ہیں ایک نے تو وجہ 9966 لکھ دینے یہاں تک لکھا ہے کہ میں دونوں فریق کا لٹریچر پڑھتا ہوں اور ہندو قوم میں میرے برابر دونوں فریق کا لٹریچر پڑھنے والا شاید کوئی اور آدمی نہ ہو ۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ خود ہی آپ کو فتح دے گا۔ اگر آپ لوگ پر تاپ“ یا ” ملاپ کے ایک ایڈیٹر کی وجہ سے ہند و قوم سے ناراض ہوتے ہیں تو اس دوسرے ہندو کی وجہ سے خوش کیوں نہیں ہوتے ۔ پس حکومت ، انگریز قوم ، ہند و مسلمان سب کے بُرے لوگوں پر نگاہ نہ رکھو بلکہ اچھے لوگوں پر رکھو ۔ ہماری کوشش یہی ہونی چاہئے کہ وہ راہِ راست پر آجائیں ۔ ان کے لئے دعائیں کریں کہ وہ راہِ راست پر آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو رستہ سے ہٹا دے اور ایسی عبرت ناک سزادے جو دوسروں کی عبرت کا باعث ہو۔ دیر سے مت گھبراؤ کہ یہ دیر ہی تو تمہارے اعلیٰ اخلاق کی نمائش کرتی ہے ۔ کوئی فکر نہیں اگر پنجاب گورنمنٹ سے فیصلہ کرانے میں مہینہ ڈیڑھ مہینہ لگ جائے یا حکومت ہند سے فیصلہ کرنے میں اتنا ہی عرصہ لگ جائے مؤمن کا عزم ہزاروں سال کا ہوتا ہے ۔ جو لوگ کہتے ہیں جلدی کرو ورنہ جوش ٹھنڈا ہو جائے گا وہ خود بھی بے ایمان ہیں اور دوسرے کو بھی بے ایمان سمجھتے ہیں۔ مؤمن کے دل میں تو وہ آگ لگی ہوتی ہے کہ جب تک وہ