خطبات محمود (جلد 16) — Page 426
خطبات محمود ۴۲۶ سال ۱۹۳۵ء واقعہ پر مضطرب ہے۔پس اگر عام مسجدوں میں سے ایک مسجد کی بے حرمتی مسلمان نہیں برداشت کر سکتے تو کس طرح ممکن ہے کہ مسلمانوں میں سے کوئی کسی ایسی مذہبی جگہ کی بے حرمتی برداشت کر لے گا جو شعائر اللہ میں سے ہے۔اگر کسی مذہبی مقام کی بے حرمتی ایک معمولی بات ہے تو کیوں ہز ایکسی لنسی گورنر پنجاب شملہ چھوڑ کر شہید گنج کی مسجد کے جھگڑے کے موقع پر لاہور پہنچ گئے ؟ کیوں منسٹر ، فنانس ممبر اور دوسرے ارکان حکومت وہاں پہنچ گئے ؟ اور کیوں فوج اور اسلحہ کی ہر طرف نمائش کر دی گئی ؟ کیا اسی لئے نہیں کہ شہید گنج کی مسجد کے متعلق جوش دکھانے والے وہ مسلمان تھے جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں لیکن گورنمنٹ کے اس رویہ کو دیکھ کر کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جب کروڑوں آدمی کسی امر کے متعلق جوش دکھانے والے ہوں تو گورنمنٹ اس کی پروا کرتی ہے اور اگر چھتین ہزار فریاد کرنے والے ہوں تو گورنمنٹ کو ان کی چیخ و پکار کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔بتا ؤ اگر صورتِ حالات کو ان بے لاگ الفاظ میں پیش کیا جائے تو اخلاقی طور پر گورنمنٹ کے متعلق کیا رائے قائم کی جاسکتی ہے۔گویا حکومت کے نزدیک چھپن ہزار افراد کے دل کو وہ زخم اتنی تکلیف نہیں دیتا جتنا ایک زخم کروڑوں افراد کے دل کو تکلیف دے سکتا ہے حالانکہ جماعت احمدیہ کے جن افراد یا مقدس مقامات پر دشمن اس وقت حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ وہ افراد یا مقام ہیں جو تاریخی حیثیت رکھتے ہیں جو احمدیوں کے نزدیک شعائر اللہ میں سے ہیں اور ان کے نزدیک خدا تعالیٰ کا کلام ان کی تعظیم کے لئے اُتر چکا ہے۔پس اگر وہ ایک غیرت مند قوم ہیں تو وہ خون کا آخری قطرہ اپنی اور سلسلہ کی عظمت کے لئے بہانے کے لئے تیار ہوں گے اگر حکومت نے اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھا اور اس ذمہ داری کو جو اس کا بنایا ہوا قانون اس پر عائد کرتا ہے پورا نہ کیا۔سالہا سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی کہ اسلام کی ترقی ان کی اولاد کے ساتھ وابستہ ہے بلکہ اس سے بھی پہلے رسول کریم ﷺ نے امت محمدیہ کو خبر دی تھی کہ جب اسلام پر مصیبت کا وقت آئے گا اور ایمان ثریا پر چلا جائے گا تو اُس وقت رَجُلٌ مِنْ فَارِسِ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید دین کے لئے کھڑا کیا جائے گا اور بعض حدیثوں میں رَجُلٌ کی بجائے رِجَالٌ ہے آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد بھی اس میں شامل ہے۔پس یہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو رسول کریم ﷺ تک جاتی ہیں۔ان پیشگوئیوں کے ایک مصداق پر