خطبات محمود (جلد 16) — Page 427
خطبات محمود ۴۲۷ سال ۱۹۳۵ء حملہ کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہو سکتی۔خالی یہ کہہ دینا کہ یہ دفعہ ۳۲۳ کا کیس ہے، واقعات سے چشم پوشی کرنا ہے اور نہ یہ کہنا کافی ہو سکتا ہے کہ اگر چھپن ہزار افراد کے قلوب زخمی ہوئے ہیں تو وہ آپ نالش کریں کیونکہ حملہ کی نوعیت ایسی ہے کہ گورنمنٹ پر اس کے متعلق اخلاقی طور پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور در حقیقت یہ حملہ حکومت کی غفلت کے نتیجہ میں ہوا ہے۔ابھی گورنمنٹ نے مسجد شہید گنج کے انہدام کے سلسلہ میں اعلان کیا تھا کہ گو سکھوں پر قانونی طور پر انہدام مسجد کے متعلق کوئی ذمہ واری عائد نہیں ہوتی مگر اخلاقی ذمہ واری سے وہ عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔وہی اخلاقی ذمہ واری جس کا گورنمنٹ نے مسجد شہید گنج کے واقعہ پر اعلان کیا ، اب خود گورنمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔اگر گورنمنٹ سمجھتی ہے کہ اخلاقی ذمہ واری کوئی چیز ہے تو یہاں بھی لاکھوں احمدیوں کے قلوب کو مجروح کر دینے والی حرکات کو دیکھ کر اس کا خاموش رہنا بلکہ اس کے بعض افسروں کا مفسدوں کے حوصلے بڑھانا اس پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں جہاں ہم زور دار لیکن مؤدبانہ الفاظ میں گورنمنٹ کو ان واقعات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں ، جہاں جوش اور اخلاص کے ساتھ ہم ان ذرائع کو اختیار کرنا ضروری سمجھتے ہیں جو موجودہ حالات کو بدل دیں ، وہاں ضروری ہے کہ ہمارا طریق کار شریعت اور قانون کے مطابق ہو ، ورنہ ہم ایک دیوار کو قائم کرتے ہوئے دوسری دیوار کو گرانے والے ہوں گے اور لوگوں کی ہنسی مذاق کا نشانہ بنیں گے۔مجھے اپنی جماعت میں سے بعض نے یہاں تک خطوط لکھے ہیں کہ جب آپ ہمیں یہ اجازت نہیں دیتے کہ اگر کوئی ہم پر حملہ کرے تو اسے روکیں اور دفاعی طور پر اس سے لڑیں تو ہمیں اتنا جوش آتا ہے کہ بعض دفعہ جی چاہتا ہے کہ خود کشی کر کے مر جائیں۔یہ وہ حالت ہے جسے دیوانگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔دنیا کے تمام ڈاکٹر اور تمام حج یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خود کشی جنون کی ایک علامت ہے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری جماعت کے بعض کمزور طبع آدمی موجودہ مخالفت کو دیکھ کر اس حالت میں ہیں کہ قریب ہے وہ اپنی عقل کھو دیں کیونکہ خود کشی کرنا شرعی طور پر حرام ہے اور اسے اتنابر افعل سمجھا گیا ہے کہ شرک تو معاف ہو سکتا ہے مگر خود کشی کا گناہ معاف نہیں ہو سکتا کیونکہ شرک کے بعد انسان تو بہ کر سکتا ہے مگر خود کشی پر انسانی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور تو بہ کرنے کے لئے اس کے پاس کوئی موقع نہیں رہتا۔تو بعض طبائع میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے اور وہ مجھے لکھ رہے ہیں کہ اگر آپ کی طرف سے بھی اور