خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 412

خطبات محمود لد اله سال ۱۹۳۵ء میں لکھا ہے جو اُس زمانہ میں وہاں اٹلی کا ایک انجینئر تھا کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو صرف اس لئے سنگسار کیا گیا تھا کہ وہ جہاد کے مخالف ہیں ۔ " اور اس طرح گویا انگریزی حکومت کو طاقت پہنچاتے ہیں ۔ پس جس قوم ۔ کے افراد انگریزوں کے لئے جانیں دے سکتے ہیں کیا وہ دین کی خاطر نہیں دے سکتے ۔ جو قوم غیروں کے ملک کو فساد سے بچانے کے لئے جانیں دے سکتی ہے وہ دین کی حرمت کے لئے کیوں نہ دے گی ۔ پس یہ غلط ہے کہ ہم دشمنوں سے یا حکومت سے ڈرتے ہیں ۔ ہم فساد سے صرف اس لئے بچتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں کہتا ہے کہ فسادمت پھیلاؤ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اسی وقت نسل انسانی پر اعتراض کیا گیا تھا کہ یہ فساد کرے گی مگر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا یہ کام مقر ر کیا کہ وہ فساد کو دور کریں۔ پھر ہم کیوں شیطان کے اعتراض کو زندہ کر کے آدم کو جھوٹا ہونے دیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ قرآن کریم میں فرشتوں کے منہ سے یہ اعتراض دُہرایا گیا ہے اور وہ آیات میرے ذہن میں ہیں مگر باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ وہ شیطانی اعتراض تھا ۔ فرشتوں نے دنیا کے خیالات کو وہاں دُہرایا ہے کہ لوگ ایسا کہتے ہیں یا کہیں گے ور نہ ہم تو حضور کے ہر فعل کو اعتراض سے بالا سمجھتے ہیں ۔ پس اصل اعتراض شیطان کا تھا کہ آدم فساد کرے گا اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ آدم کی اولا د فساد نہیں کرے گی بلکہ شیطان کی اولاد کرے گی اور اس کا ثبوت تمہیں دکھاتا ہوں ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کی پیدائش پر سجدہ کرو ، انہوں نے سجدہ کیا مگر شیطان نے انکار کر دیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے دیکھ لیا فساد تم کرتے ہو یا وہ ۔ آدم نے جب غلطی کی نسیان کے ماتحت کی مگر شیطان نے بغاوت سے مقابلہ کیا ۔ پس ہمارا کام یہ ہے کہ دنیا پر ثابت کر دیں کہ ہم فسادی نہیں ہیں اور اس اصل کے قیام کے لئے قربانیاں کریں مگر ساتھ ہی اپنی غیرت کو نہ مرنے دیں ۔ میں جانتا ہوں یہ بہت نازک معاملہ ہے ، یہ تلوار کی دھار پر چلنا پڑتا ہے مگر مؤمن کو تلوار کی دھار پر چلنا ہے اور تمہارا فرض ہے کہ ثابت کر دو کہ تم تلوار کی دھار پر چل سکتے ہو ۔ ایک طرف غیرت ہے اور دوسری طرف رف فساد سے بچنا ۔ یہ حملہ نہیں بتاتا ہے ا۔ یہ حملہ تمہیں بتاتا ہے کہ تمہارا دشمن کس حد تک گر چکا ہے ۔ یہ تمہیں ہوشیار کرتا ہے کہ تمہیں کس قدر وسیع النظر ہونا چاہئے ۔ وہ شرارت سے تمہاری توجہ کو اپنی طرف پھیرنا چاہے گا ۔ مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سے مجھے خبر دے رکھی ہے تمہارا فرض یہی ہے کہ ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتے ہوئے چلتے جاؤ۔ دو 66