خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 411

خطبات محمود ۴۱۱ سال ۱۹۳۵ء پس میں اس بات کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اپنے شعائر میں داخل کرتا ہے تو اس کی تعظیم کو اپنی تعظیم سمجھتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ مَنْ يُعَلِّمُ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ یہ بات اللہ تعالیٰ کے تقویٰ میں شامل ہے۔اور اس کی وجہ سے تمہیں کتنا بھی جوش آئے میں اسے نا جائز نہیں سمجھتا۔پھر میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ حملہ میاں شریف احمد صاحب پر اس لئے تھا کہ اس سے جوش میں آکر جماعت احمدیہ ان پر حملہ کر دے۔میاں شریف احمد صاحب پر یہ حملہ ان کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ احمدیت کی وجہ سے تھا اس لئے علاوہ شعائر اللہ پر حملہ ہونے کی وجہ کے اگر جماعت اس کے متعلق کچھ نہ کرتی تو وہ سخت بے غیرت ہوتی۔ہماری جانیں رسول کریم ﷺ کے مقابل پر کیا حیثیت رکھتی ہیں۔آپ نے ایک دفعہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ میں بھیجا کہ صلح کی کوشش کریں اور اہل مکہ کو اس امر پر راضی کریں کہ مسلمانوں کو عمرہ کر لینے دیں۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بات چیت میں دیر لگ گئی ، بحث نے طول کھینچا اور وہ شام تک واپس نہ آ سکے۔رسول کریم کو اس کا بہت خیال تھا کہ دیر زیادہ ہو گئی ہے ، اتنے میں بعض شرارتیوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت عثمان مارے گئے ہیں۔رسول کریم ﷺ کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور فرمایا میں نے عثمان کو بھیجا تھا افواہ ہے کہ ان کو شہید کر دیا گیا ہے ، یہ میرا ہاتھ ہے کون ہے جو اس پر موت کی بیعت کرتا ہے؟ صحابہ آئے اور انہوں نے بیتابانہ اپنے ہاتھ رکھ دیئے پھر آپ نے دوسرا ہاتھ نکالا اور فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔اگر وہ آج یہاں ہوتے تو وہ بھی ضرور بیعت کرتے اس لئے یہ ہاتھ ان کی طرف سے میں رکھتا ہوں۔شوہ بیعت ایسی تھی کہ صحابہ کہتے ہیں ہم تلواروں کے کندے مار مار کر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے اور ایک دوسرے کی گردنوں پر چڑھ کر بیعت کر رہے تھے۔سو میں تسلیم کرتا ہوں کہ قومی غیرت چاہتی ہے کہ جب قومی وجہ سے حملہ کیا جائے تو سب اسے مٹائیں۔میں مانتا ہوں کہ جو قوم شعائر اللہ کی عظمت نہیں کرتی وہ مٹادی جاتی ہے مگر تم اس بات کو کبھی نہ بھولو کہ یہ حملہ تھا کیوں؟ یہ اس لئے تھا کہ جماعت کو بدنام کیا جائے اور تمہارا فرض ہونا چاہئے کہ سلسلہ کے نیک نام کو قائم رکھو۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بزدل ہیں ، گورنمنٹ بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ ہم بزدل نہیں ہیں ، اسے خوب معلوم ہے کہ کس طرح ہمارے آدمیوں نے کابل میں جانیں دیں، کیا ان واقعات کے بعد بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم موت سے ڈرتے ہیں۔ایک یورپین کی کتاب