خطبات محمود (جلد 16) — Page 413
خطبات محمود ۴۱۳ سال ۱۹۳۵ء چوتھی بات یہ ہے کہ دو باتیں اور ایسی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اوّل یہ کہ جیسا کہ اطلاعات بتاتی ہیں اس حملہ کو یہیں تک محدود نہیں سمجھنا چاہئے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ ناظروں اور ہمارے خاندان کے دوسرے ممبروں اور ہمارے خاندان کی عورتوں اور دوسری احمدی عورتوں پر حملوں کے امکانات ہیں۔اور مقامات مقدسہ پر حملہ کی انگیخت تو تقریروں میں صاف موجود ہے اس لئے ہم اسے معمولی نظر سے بھی نہیں دیکھ سکتے۔یہ ایک کڑی ہے ایک زنجیر کی ، اُسی دن جس دن مرزا شریف احمد صاحب پر حملہ کیا گیا ، ایک احمدی دکاندار کو بھی زدوکوب کیا گیا اور اس وجہ سے اگر ہم بالکل خاموش رہیں تب بھی گزارہ نہیں ہو سکتا۔دشمن چاہتا ہے کہ اگر ہم اس کے حملوں کا جواب حملہ سے دیں تو وہ ہمیں ہمارے مخالف حکام کی مدد سے مجرم بنائے اور ہماری روایات کو باطل کرے اور اگر ہم حملہ کا جواب حملہ سے نہ دیں اور صبر کریں تو وہ اس حد تک ہمیں تنگ کرے کہ احمدیت کو دنیا کی نگہ میں بے غیرت ثابت کر دے۔پس ان حالات میں اگر ہمیں خون کا آخری قطرہ بھی ان شرائط کے ماتحت جو میں بیان کر چکا ہوں گرانا پڑے تو اس سے ہمیں دریغ نہ ہونا چاہئے۔ہمارا پچھلا تجربہ بتا تا ہے کہ ہم ایسے ماحول میں ہیں کہ حکومت بھی ہماری طرف توجہ نہیں کر سکتی۔اس کے سامنے ہم دس دن پہلے حالات رکھ چکے تھے اور اسے دس دن کا وقفہ انتظام کے لئے مل گیا تھا لیکن اس عرصہ میں وہ کوئی انتظام نہیں کر سکی لیکن اس کے مقابل میں زمیندار میں ایک جھوٹی خبر شائع ہوتی ہے کہ کسی شخص نے مولوی ظفر علی کو لکھا ہے کہ تم اار دسمبر کو مار دئیے جاؤ گے اور ان کی حفاظت کے لئے پولیس کی جمعیت سی۔آئی۔ڈی کا سپر نٹنڈنٹ اور تمام دوسرے افسر آ موجود ہوتے ہیں۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس بھی فون پر دریافت کرتے رہے گویا حکومت کو اُس دن سخت بے چینی تھی کہ حکومت کا یہ رکن اور خیر خواہ و ہمدرد کہیں مارا نہ جائے یا اسے کوئی گزند نہ پہنچے لیکن سلسلہ احمدیہ کے معزز افراد جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے الہاموں میں جگہ دی ہے اور جن کی خاطر جماعت احمدیہ کا ہر فرد اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے ان پر حملہ کی خبر دس دن قبل تمام افسروں کو بھجوا دی جاتی ہے مگر کوئی کا رروائی نہیں ہوتی۔آئندہ کے لئے بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ کوئی توجہ کی جائے گی یا نہیں اور ہو سکتا ہے کہ میرے اسی خطبہ کے ساتھ ہی یہ رپورٹ بھیج دی جائے کہ حالات پر پوری طرح قابو پالیا گیا ہے اور فساد کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ پچھلا تجربہ بتاتا ہے کہ بعض افسر بغیر کچھ کئے بھی نیک نامی کے خواہشمند رہتے