خطبات محمود (جلد 16) — Page 403
خطبات محمود ۴۰۳ سال ۱۹۳۵ء اجازت دی ہے اس لئے میں اسے سزا دلواؤں گا۔رسول کریم ﷺ نے بھی سفارش کی مگر وہ نہ مانا جب تمام کوششیں اسے معافی پر آمادہ کرنے کی بریکا رثابت ہوئیں تو اس عورت کے رشتہ دار نے کہا کہ خدا کی قسم ! اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے۔اس کے اس فقرہ میں غرور نہ تھا اور نہ یہ مطلب تھا کہ اب اس کی طرف سے ہم لڑیں گے بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ پر یقین کا اظہار تھا۔اس سے دوسرے فریق پر اس قدر اثر ہوا کہ اس نے کہا کہ اچھا میں معاف کرتا ہوں گویا جو اثر رسول کریم ﷺ کی سفارش نے بھی نہ کیا تھا وہ اس فقرہ نے کر دیا۔تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ خستہ حال ہوتے ہیں نہ ان کے تن پر کپڑا ہوتا ہے نہ انہیں کھانے کو میسر آتا ہے لیکن وہ قسم کھاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کرتا ہے تو اس صحابی نے جب یہ بات کہی اسوقت کون سی عقل کام کر رہی تھی ؟ یہ جذبات ہی تھے جن کے ماتحت اس نے یہ قسم کھائی عقل تو اس کی مخالف تھی لیکن اس وقت وہ جذبات کے تابع ہو گئی تھی۔یہ مقام بعض لوگوں کو دنیا میں بھی حاصل ہو جاتا ہے مگر ان کے سوا دوسرے لوگوں کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ دونوں چیزوں کو ایک ساتھ چلائیں تا اگر جذبات حد سے بڑھیں تو عقل روک دے اور جہاں انسان عزت اور غیرت سے بے بہرہ ہونے لگے وہاں جذبات اس کو تھام لیں اور اسے بتادیں کہ یہ تمہاری غلطی ہے اور جب جذبات انسان کو ایسے رستوں پر لے جائیں کہ اصل مقصد فوت ہو رہا ہو تو عقل کا کام ہے کہ روک دے اور کہے کہ قدم اُٹھانے سے پہلے میری بات بھی سن لو۔غرض ان دونوں طاقتوں کا مناسب اشتراک نہایت ضروری ہے ورنہ انسان یا تو عقل۔بے بہرہ ہو جائے گا یا جذبات سے خالی اور اس کی زندگی ناکامیوں کا ایک عبرت انگیز مرقعہ بن جائے گی۔مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ حد سے زیادہ جذبات کے تابع ہو جاتے ہیں وہ عجیب احمقانہ حرکات کرنے لگتے ہیں۔کئی لوگوں کو دیکھا ہے جب غصہ آتا ہے اور وہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے تو اپنے بال نوچ ڈالتے اور گالوں کو پیٹ پیٹ کر زخمی کر لیتے ہیں۔ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کسی نمبر دار نے کسی کا برتن مانگ کر لیا اور پھر جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے یا کسی اور وجہ سے اسے واپس نہ کیا۔مہینہ ڈیڑھ مہینہ کے بعد برتن کا مالک اس نمبر دار کے گھر میں گیا تو دیکھا کہ وہ اس میں ساگ ڈال کر کھا رہا ہے یہ دیکھ کر اس نے کہا کہ چوہدری یہ تو ٹھیک نہیں ، تم نے شادی کے لئے برتن مانگا تھا اور اب اس میں ساگ کھا رہے ہو۔اچھا مجھے بھی باپ کا بیٹا نہ کہنا اگر میں بھی