خطبات محمود (جلد 16) — Page 402
خطبات محمود ۴۰۲ سال ۱۹۳۵ء نہیں آ گیا۔یا اگر کوئی شخص اپنے والدین کی طرف پاؤں کر کے لیٹ جائے تو عقل اس پر کوئی اعتراض نہیں کرے گی اور اس قسم کی سینکڑوں ہزاروں باتیں ایسی ہیں جن پر عقل کوئی اعتراض نہیں کر سکتی مگر جذ بات وہاں ضرور معترض ہوں گے اور عقل سے صاف کہہ دیں گے کہ یہاں تمہارا دائرہ مکمل ختم ہے اور ہما را شروع ہوتا ہے۔اسی طرح بیسیوں باتوں میں باہم اختلاف ہوگا۔جذ بات کہیں گے کہ ہر وقت اپنے پیارے اور محبوب کی یاد میں لگے رہو لیکن عقل کہے گی کہ یہ نامعقول بات ہے کچھ وقت اپنے جسم کی حفاظت کے لئے بھی صرف کرنا چاہئے ورنہ محبوب کی خدمت کیسے کر سکو گے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے بھی فیصلہ فرما دیا ہے کہ بعض اوقات میں روزہ اور نماز بھی شیطانی افعال ہو جاتے ہیں۔جذ بات تو بے شک کہیں گے کہ ہر روز روزہ رکھو اور ہر وقت نمازیں پڑھتے رہو لیکن عقل کہے گی کہ نہیں ، ناغہ بھی ہونا چاہئے تا صحت درست رہ سکے۔پس یہ دونوں قانون دنیا میں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور جو بھی ان کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش کرے گا وہ ناکام رہے گا اور اچھے نتائج نہیں پیدا کر سکے گا۔ہاں ایک مقام پر جا کر عقل مٹ جایا کرتی ہے اور وہ توحید کامل کا مقام ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عقل کی ضرورت ہی وہاں نہیں رہتی بلکہ جذبات بہت کامل ہو جاتے ہیں اور عقل بھی انہی میں شامل ہو جاتی ہے۔یہ مقام عام انسانوں کو جنت میں جا کر حاصل ہوتا ہے۔وہاں عقل کا کوئی کام نہیں بلکہ سب کچھ جذبات کے ماتحت ہوگا اور پھر جو کچھ بھی ہو گا اس میں غلطی کا احتمال نہیں ہو گا لیکن جن لوگوں کو اسی دنیا میں جنت حاصل ہو جاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے ، وہ بھی جو کام کرتے ہیں ان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نیک نتائج ہی پیدا کرتا ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حسن کا مقام دیا جاتا ہے۔یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کئی لوگ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ، اُن کے بال بکھرے ہوتے ہیں مگر وہ کہہ دیتے ہیں کہ خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہو گا اور وہ نہیں ہوتا اور ایسا ہوگا اور وہ ہو جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ کے پاس کوئی شخص آیا اور اس نے کہا فلاں عورت نے میری پھوپھی کے دو دانت توڑ دیئے ہیں اس لئے اس کے دانت بھی تو ڑ دئیے جائیں۔توڑنے والی عورت کی طرف سے اس کا جو رشتہ دار بات کر رہا تھا اس نے کہا کہ غلطی ہو گئی ہے معاف کر دو اور رسول کریم ﷺ نے بھی سفارش کی لیکن دوسرے کو کچھ ایسی ضد تھی کہ وہ برابر انکار کرتا رہا اور یہی کہتا رہا کہ شریعت نے