خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 404

خطبات محمود ۴۰۴ سال ۱۹۳۵ء تمہارا برتن ما نگ کر نہ لے جاؤں اور پھر اس میں نجاست ڈال کر نہ کھاؤں۔یہ بات اس نے جذبات کے ماتحت کہی عقل کا اس سے کوئی واسطہ نہ تھا۔اس نے اتنا نہ سوچا کہ نجاست کھانے سے خود اسی کا نقصان ہو گا۔ایسا ہی حال اُس شخص کا ہوتا ہے جو جذبات کو بالکل دبا دے اور خالی عقل کے پیچھے۔پڑ جائے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر ایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی ایک مقررہ مقدار رکھی ہے جیسا کہ قرآن کریم سے یہ قانون صاف طور پر نظر آتا ہے جب وہ مقدار خرچ ہو جائے تو جیب خالی ہو جاتی ہے۔پانی کو ہنڈیا میں ڈال کر جلا ؤ تو وہ بھاپ بن کر اڑ جائے گا۔اور جس طرح دنیا میں ہر چیز کی مقدار ہوتی ہے اسی طرح جذبات کی بھی ہے۔اگر انہیں اتنا استعمال کرو گے کہ وہ بھاپ بن کر اڑ جائیں تو ہنڈیا خالی رہ جائے گی اور اصل کام کے وقت تمہارے پاس کچھ نہیں ہو گا۔مگر عقلمند وہ ہے جو اپنے ذخیروں کو محفوظ کرتا ہے۔جب انگلستان اور جرمنی کی لڑائی شروع ہوئی تو دونوں ممالک میں ایک شور مچ گیا۔لنڈن کے لوگ جمع ہو کر بازاروں میں نعرے لگاتے پھرتے تھے کہ "Down wiht Germany" جرمن کہتے تھے "Down with England " لیکن کیا تم سمجھتے ہو جرمنی کو شکست دینے والے وہ لوگ تھے جو انگلستان میں یہ نعرے لگاتے پھرتے تھے۔یا انگلینڈ کو زخم پہنچانے والے وہ لوگ تھے جو جرمنی میں اس قسم کے نعرے لگاتے تھے نہیں بلکہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے جب سنا ہمارے قومی احترام پر حملہ کیا گیا ہے تو کہا بہت اچھا۔اب کام کا وقت آ گیا ہے ، انہوں نے اپنے جوشوں کو اپنے سینوں میں رکھا اور کام میں لگ گئے اور اپنے ارادوں کو پورا کر کے دکھا دیا۔جرمن تھوڑے تھے اور ان کے پاس اتنے سامان بھی نہ تھے اس لئے اتحادیوں کو شکست نہ دے سکے۔مگر انہوں نے انگلستان اور دوسرے اتحادیوں کو سخت زخم لگایا اور انگلینڈ اور اس کے اتحادی چونکہ تعداد اور سامان میں زیادہ تھے اس لئے انہوں نے جرمنی کو کچل دیا۔جنگ کے بعد ایک بڑے جرمن تاجر کا خط میرے نام آیا اس زمانہ میں جرمن چاروں طرف ہاتھ مار رہے تھے کہ کوئی راہ امداد کی ہے؟ اس خط میں اس نے لکھا تھا کہ ہمارے ملک میں بہت قحط ہے اور مصائب کے بادل ہیں کیا ہندوستان کے لوگ ہمارے کھانے کے لئے کوئی چندہ دے سکتے ہیں؟ پھر اس نے لکھا تھا کہ جو تاوان ہم پر ڈالا گیا ہے ہم تیار ہیں کہ جس طرح بھی ہو اسے ادا کر دیں لیکن معلوم نہیں وہ کتنا ہے (اُس وقت تک اتحادیوں نے جرمنی پر تا وان لگا تو دیا تھا مگر