خطبات محمود (جلد 16) — Page 361
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء اذیتیں دے دے کر جب سولی پر لٹکایا تو ایک شخص کہنے لگا بتا تو سہی کیا تیرا دل نہیں چاہتا کہ تو اس وقت مدینہ میں آرام سے اپنے بیوی بچوں میں بیٹھا ہوا ہو اور تیری جگہ محمد (ﷺ) کو پھانسی دی جائے اگر وہ مداہنت سے کام لیتا اور کفار کے حسب منشاء جواب دے دیتا تو کیا رسول کریم ﷺ کو کچھ نقصان پہنچ جاتا کوئی نقصان نہ پہنچتا بلکہ ممکن تھا کہ اس کی جان بچ جاتی لیکن اُس نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ تم تو یہ کہتے ہو کہ میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا ہوا ہوں اور محمد ﷺ کو پھانسی دی جائے میں تو یہ بھی پسند نہیں کر سکتا کہ میں اپنے گھر میں آرام سے بیٹھا ہوا ہوں اور محمد ﷺ کے تلووں میں کوئی کانٹا تک چھ جائے۔سے بے شک اس دلیرانہ اظہار ایمان کے نتیجہ میں انہوں نے اپنی جان دے دی اور بے شک اس جواب کی وجہ سے نرمی کا خیال کفار کے دلوں سے نکل گیا مگر دیکھو تو ، کہ کتنے آدمی ہیں جو اس واقعہ کو سن کر زندہ ہو جاتے ہیں اور کتنے ہیں جنہیں اس واقعہ سے ایک نئی زندگی اور ایک نیا ایمان بخشا جاتا ہے۔پس موت کوئی چیز نہیں تم اگر مرو اور سچائی کے لئے مرو تو تمہارے دشمنوں میں سے ہی کئی لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے جو تمہاری قدر کریں گے اور کہیں گے کہ سچائی کا ایسا عظیم الشان مظاہرہ دیکھ کر وہ صداقت کو قبول کرنے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔مجھے کل ہی ایک نو جو ان کا خط ملا ہے وہ لکھتا ہے میں احراری ہوں میری ابھی اتنی چھوٹی عمر ہے کہ میں اپنے خیالات کا پوری طرح اظہار نہیں کر سکتا اتفاقاً ایک دن ” الفضل“ کا مجھے ایک پرچہ ملا جس میں آپ کا خطبہ درج تھا میں نے اسے پڑھا تو مجھے اتنا شوق پیدا ہو گیا کہ میں نے ایک لائبریری سے لے کر ” الفضل با قاعدہ پڑھنا شروع کیا پھر وہ لکھتا ہے خدا کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں اگر کوئی احراری آپ کے تین خطبے پڑھ لے تو وہ احراری نہیں رہ سکتا۔میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ خطبہ ذرا لمبا پڑھا کریں کیونکہ جب آپ کا خطبہ ختم ہو جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دل خالی ہو گیا اور ابھی پیاس نہیں بجھی۔تو سچائی کہاں کہاں اپنا گھر بنالیتی ہے وہ چھوٹے بچوں پر بھی اثر ڈالتی ہے اور بڑوں پر بھی۔رسول کریم ﷺ نے جب ابتدائے دعوئی میں مکہ کے لوگوں کی دعوت کی اور انہیں اسلام کی طرف بلایا تو اُس وقت آپ کے رشتہ دار بھی اس مجلس میں موجود تھے آپ نے دریافت فرمایا کہ اے لوگو ! تم میں سے کون میرے کام میں مدد کرے گا ؟ رسول کریم ﷺ نے جب یہ مطالبہ کیا تو تمام لوگ "