خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 362

خطبات محمود ۳۶۲ سال ۱۹۳۵ء خاموش ہو گئے لیکن اُس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ اُٹھے جو ابھی بہت چھوٹی عمر کے تھے اور کہنے لگے يَا رَسُولَ اللہ ! میں آپ کی مدد کروں گا۔ہے اب کتنے گیارہ برس کے بچے ہیں جو شدید مخالفت کو دیکھتے ہوئے حق وصداقت کی حمایت کے لئے اتنی عظیم الشان جرأت دکھا سکیں یقیناً بہت کم بچے ہوں گے پھر کیا چیز تھی جس نے حضرت علی کو اس مجمع میں کھڑا کیا وہ وہی سچائی تھی جو رسول کریم ﷺ کے ہونٹوں پر جاری ہوئی اور حضرت علی نے اس کا مشاہدہ کیا ، اسی طرح رسول کریم ﷺ نے جب دعوی نبوت کیا تو اُس وقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ با ہر کسی گاؤں میں گئے ہوئے تھے جب آپ واپس آئے تو اپنے ایک دوست کے ہاں ٹھہرے اُس کی لونڈی آپ کو مخاطب کر کے کہنے لگی تیرا دوست تو پاگل ہو گیا۔وہ کہنے لگے کون سا دوست اور کس طرح پاگل ہو گیا ؟ اس نے جواب میں رسول کریم کا نام لیا اور کہا وہ ایسا پاگل ہو گیا ہے کہ کہتا ہے فرشتے مجھے پر خدا کا کلام لے کر اُترتے ہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اُس وقت اُس دوست کے ہاں آرام کرنے کے لئے لیٹے تھے مگر جونہی آپ نے یہ بات سنی فوراً چادر سنبھالی اور رسول کریم لے کے گھر کی طرف چل پڑے دروازہ پر پہنچ کر دستک دی تو رسول کریم ﷺ باہر تشریف لائے۔آپ نے شکل دیکھتے ہی کہا میرا ایک سوال ہے آپ اس کا جواب دیں اور وہ یہ کہ کیا آپ کہتے ہیں آپ پر خدا کے فرشتے اترتے اور اس کا کلام نازل ہوتا ہے؟ رسول کریم ﷺ نے اس خیال سے کہ دشمنوں نے ان کے کان نہ بھرے ہوئے ہوں اور مباد اٹھو کر لگ جائے تمہیدی طور پر بعض دلائل بیان کر کے اپنا دعویٰ پیش کرنا چاہا مگر حضرت ابو بکڑ نے کہا آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم ہے آپ کوئی اور بات نہ کریں آپ صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ نے اس قسم کا دعویٰ کیا ہے کہ آپ پر خدا تعالیٰ کے فرشتے اس کا کلام لے کر اُترتے ہیں؟ رسول کریم نے پھر تشریح کرنی چاہی تو آپ نے پھر روک دیا اور کہا میں آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ آپ صرف میری بات کا جواب دیں اس کی تشریح نہ کریں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے دعوی کیا ہے آپ نے کہا تو پھر میں آپ پر ایمان لاتا ہوں پھر کہنے لگے يَا رَسُولَ اللهِ ہیں نہیں چاہتا تھا کہ میرا ایمان دلیلوں سے مشتبہ ہو جائے۔ے میں جانتا ہوں کہ وہ شخص جس نے انسانوں پر آج تک کبھی جھوٹ نہیں باندھا وہ خدا تعالیٰ پر بھی کبھی افتراء نہیں کر سکتا پس میرے لئے صداقت کی یہی دلیل کافی ہے۔