خطبات محمود (جلد 16) — Page 360
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ہے کہ وہ ہلاکت اور حفاظت کی راہ میں امتیاز کرنا نہیں جانتا ایسی صورت میں میری طرف سے انہیں اجازت ہے کہ وہ اپنا کوئی اور خلیفہ مقرر کر لیں اور اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلیں لیکن اگر انہوں نے میری بیعت اور میری رہنمائی کو قبول کرنا ہے تو پھر میری ایک ہی نصیحت ہے اور وہ یہ کہ تم سچائی پر قائم رہو اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرو پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔میں جانتا ہوں کہ جو بات آگے کہنے والا ہوں اس پر حکومت کے بعض افسر چڑتے ہیں وہ غصہ اور تکبر سے اپنا منہ پھیر لیتے ہیں لیکن میں کیا کروں کہ یہ ایک سچائی ہے اور میں اسے چھپا نہیں سکتا کہ خواہ دنیا کی ساری حکومتیں مل جائیں پھر بھی تمہیں تباہ نہیں کر سکتیں بے شک میرے یہ الفاظ ان حکام پر جو خدا کی بادشاہت اور انسانی بادشاہت میں حفظ مراتب کرنا نہیں جانتے گراں گزرتے ہیں ، بے شک ایسے حکام کے موٹے نفس انہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ غریب اور نہتے لوگ کیوں ایسے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر یہ ایک سچائی ہے کہ ساری دنیا کی حکومتیں مل کر بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔میں بھی سید عبد القادر جیلانی کی طرح یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ بے شک میرا کہنا انہیں بُرا لگتا ہے بے شک وہ اس کی وجہ سے ہمیں اور زیادہ نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتے ہیں لیکن یہ ایک واقعہ اور حقیقت ہے کہ احمدیت خدا تعالیٰ کے ہاتھ کی ہوئی ہوئی کھیتی ہے اور دنیا کی سب طاقتیں مل کر بھی اسے فنا نہیں کر سکتیں۔اگر احمدیت کو کوئی چیز نقصان پہنچا سکتی ہے تو وہ احمدیوں کی اپنی بد اعمالیاں اور جھوٹ ہیں پس اس وقت ایک عظیم الشان مقابلہ مجھے نظر آ رہا ہے اور اگر آئندہ چند ہفتوں یا چند مہینوں کے اندر اندر اس ظلم کی تلافی نہ کی گئی جو ہم پر کیا جا رہا ہے تو ہمیں ایسا پروگرام تجویز کرنا پڑے گا جس سے سلسلہ کی حفاظت ہو اور اس کے وقار کو قائم رکھا جائے مگر اس پروگرام کی ایک بڑی شرط یہ ہوگی کہ وہی شخص اس میں شامل ہوگا جو سچائی پر قائم رہنے کا عہد کرے گا ورنہ جو شخص اپنی جان کو اتنا قیمتی سمجھتا ہے کہ اس کے لئے وہ سچ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے وہ ہمارے ساتھ شامل ہو کر کام نہیں کر سکتا۔اور اگر تم سچائی پر قائم رہو تو میں سمجھتا ہوں کہ تمہاری موت بھی زندگی کا موجب بن جائے گی کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ صحابہ جنہوں نے ہر قسم کی مشکلات اور مصائب میں سچائی قائم رکھی مگر اپنی جان دے دی ان کی زندگی یونہی گئی کیا تم میں سے کوئی سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی ایسا ہے جو اس صحابی کا واقعہ سن کر اپنے اندر زندگی کی روح محسوس نہیں کرتا جسے مشرکین مکہ نے