خطبات محمود (جلد 16) — Page 327
خطبات محمود ۳۲۷ سال ۱۹۳۵ء سنائے گا اشتہارات کی تقسیم کا یہ طریق مفید ہے۔ورنہ یونہی بانٹتے چلے جانا قطعا مفید نہیں۔بغیر دیکھے بھالے بانٹنے سے ایک لاکھ اشتہار ایک ضلع کے لئے بھی کافی نہیں لیکن اگر عمدہ طریق سے تقسیم کئے جائیں تو ایک لاکھ اشتہار سارے ملک کے لئے کافی ہو سکتا ہے بشرطیکہ مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے اگر اس طرح کام کیا جائے تو تمام ہندوستان میں شور مچ سکتا ہے۔یہ اشتہار دو قسم کے ہوں گے۔ایک تو مذہبی جن میں یہ بتایا جائے گا کہ ہمارے عقائد اور ان کے دلائل کیا ہیں اور دوسرے وہ جن میں احرار کی کارروائیاں ظاہر کی جائیں گی اور بتایا جائے گا کہ یہ لوگ کس طرح ہمیشہ قوم سے غداری کرتے آ رہے ہیں، کن کن مواقع پر غریبوں کا روپیہ لوٹ کر کھا گئے ہیں، ان کا طریق ہمیشہ فتنہ فساد والا رہا ہے گویا ایک طرف تو ہم لوگوں کو ان کے حالات سے آگاہ کریں گے اور دوسری طرف احمدیت سے واقف کرائیں گے اور اس طرح احمدیت کی طرف غور و فکر کی دعوت دیں گے پس یہ پروگرام ہے جو میں اس وقت پیش کرنا چاہتا ہوں۔قادیان کی جماعت بھی اس کے مطابق غور کر کے دس دس بیس بیس میل کے علاقہ میں اشتہارات کی تقسیم اور لیکچروں کا انتظام کرے۔یہاں خدا کے فضل سے کئی سو لیکچرار مل سکتے ہیں اور سو ڈیڑھ سو سائیکل ہیں اگر ہر ایک چار پانچ گھنٹے وقت بھی دے تو سب طرف نہایت خوبی سے ٹریکٹ اور اشتہار تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔اسی طرح باہر کی جماعتیں بھی کام کریں جو لوگ اس رنگ میں تبلیغ کے لئے نام دیں گے انہیں اپنے اپنے علاقہ میں کام دیا جائے گا اور اتنے ہی فاصلہ پر بھیجا جائے گا کہ کام کر کے شام کو گھر آ سکیں۔پس اس سکیم کا اعلان کرتے ہوئے میں پہلے قادیان کی جماعت کو اور پھر بیرونی جماعتوں کو تو جہ دلاتا ہوں کہ اس کے مطابق جلد از جلد اپنے نام بھجوا دیں تا جون کے آخر سے کام شروع کیا جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم ایسے مضامین کا انتخاب کر سکیں جو اسلام اور سلسلہ کے لئے مفید ہوں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام احسن طریق پر پہنچا سکیں۔مخالفوں کو دیکھ کر ہمارے دل ان کے لئے بغض سے نہ بھر میں بلکہ ان کے لئے ہمارے دلوں میں حقیقی ہمدردی پیدا ہو۔دشمن اگر بدی کرتا ہے تو وہ اپنے اندرونہ کا اظہار کرتا ہے ہمارا مذہب ہمیں ہمدردی سکھاتا ہے اس لئے ہمیں ہمدردی ہی کرنی چاہئے گو اس پروگرام کے ایک حصہ میں ہم احرار کی غلطیاں اور قوم کے متعلق ان کی نقصان رسانیوں کا اظہار کریں گے لیکن جن کے سپرد یہ کام ہو میں انہیں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ سخت کلامی سے پر ہیز