خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 276

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کام کے نتیجہ میں تھوڑے دنوں میں ہی اتنا عظیم الشان تغیر پیدا ہو گیا ہے کہ میں خیال کرتا ہوں اگر سارے احمدی اس کام پر لگ جائیں تو دنیا دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے اور ہمارا قدم ترقیات کی بلند ترین چوٹیوں پر پہنچ جائے۔اس نئی تحریک کے نتیجہ میں تبلیغ کر کے مختلف مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ ایک شخص مضبوط ہاتھوں سے احمدیوں پر پتھر چلا رہا ہے مگر اس کا دل اللہ تعالیٰ کی خشیت سے اندر ہی اندر خوف زدہ ہوتا ہے اور وہ آپ ہی علیحدگی میں ملتا ہے اور کہتا ہے میری بڑی بیوقوفی تھی کہ میں نے آپ کو تکلیف پہنچائی۔پس ان ظالموں میں سے بھی وہ لوگ نکل آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں اس وقت احمد یوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ابھی ایک واقعہ کی اطلاع موصول ہوئی ہے ، ایک جگہ ایک احمدی تبلیغ کرنے کے لئے گیا تو ایک مخالف مولوی نے اس احمدی پر حملہ کر دیا اور اسے بُرا بھلا کہا اور کچھ مارا پیٹا بھی۔چند دنوں کے بعد وہ احمدی پھر اس گاؤں میں تبلیغ کے لئے آیا تو اسی غیر احمدی نے پھر حملہ کر دیا اس پر غیر احمدیوں نے خود اپنے مولوی کو ملامت کی اور کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم نے پہلے بھی اسے تکلیف دی اور اب پھر گالیاں دے رہے ہو۔تو ان مخالفوں میں سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے ایسے دل نکل رہے ہیں جو محسوس کرتے ہیں کہ احمد یوں پر ظلم انتہاء کو پہنچ گیا۔ظلم کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔تم کسی سے انتہاء درجہ کی محبت تو کر سکتے ہو مگر کسی پر انتہاء درجہ کا ظلم نہیں کر سکتے۔بیسیوں ظالموں کو ہم نے دیکھا ہے وہ مار مار کر اپنے دشمن کو بے ہوش کر دیتے ہیں لیکن جب وہ بے ہوش ہو جاتا ہے تو اس سے چمٹ جاتے اور اس کے منہ میں پانی ڈالتے اور اسے پنکھا کر نے لگ جاتے ہیں۔کبھی دل میں یہ خیال آ جاتا ہے کہ اگر یہ مرگیا تو میں قاتل نہ سمجھا جاؤں، کبھی ضمیر انسان کو ملامت کرتی اور وہ اپنے فعل پر پشیمان ہوتا ہے ، کبھی خدا کا خوف اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے تو انتہاء درجہ کا ظلم کبھی نہیں کیا جا سکتا۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت بہت بڑا تغیر ہو رہا ہے اور گو کام بہت تھوڑی جگہ شروع کیا گیا ہے لیکن جبکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اتنا بڑا انور نازل کیا ہے تو آخر کب تک لوگ اس کے دیکھنے سے اپنی آنکھوں کو بند رکھیں گے۔یقیناً ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ ہدایت پائیں گے۔اللہ تعالیٰ کا اگر ہم فعل دیکھیں تو اس سے بھی صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اندھا پن انتہاء نہیں رکھتا مگر محبت الہی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو محبت الہی کے نتیجہ میں غیر مقطوع جنت کا وعدہ دیا