خطبات محمود (جلد 16) — Page 277
خطبات محمود ۲۷۷ سال ۱۹۳۵ء گیا ہے مگر روحانی اندھا پن کے نتیجہ میں غیر مقطوع دوزخ کا وعدہ نہیں کیا گیا بلکہ کہا گیا ہے کہ لمبی دوزخ ہو گی اور بالآ خر دوزخیوں کو اس میں سے نکال لیا جائے گا۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نا بینائی انتہاء کو نہیں پہنچتی مگر بینائی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے۔غضب اور ظلم کی سزا غیر محدود نہیں لیکن محبت اور رحم کی جزاء غیر محدود ہے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ محبت کو ہم انتہاء تک پہنچا سکتے ہیں لیکن ظلم کو انتہاء تک نہیں پہنچا سکتے۔پس اس عظیم الشان مقصد کو مت بھولو جوتمہارے سامنے ہے بہت بڑا کام ہے جسے تم نے سرانجام دینا ہے۔وہی سکیم لے لو جو میں نے تمہارے سامنے پیش کی ہے اور جو دریا میں سے ایک قطرہ کی حیثیت رکھتی ہے اس پر ہماری جماعت نے ابھی کامل طور پر عمل نہیں کیا۔کل ہی مجھے معلوم ہؤا کہ ہماری انجمن پر ایک لاکھ تین ہزار روپیہ کا قرض ہے۔کیا کوئی عظمند سمجھ سکتا ہے کہ اگر ہم متفقہ طور پر کوشش کریں تو یہ ایک لاکھ تین ہزار کا قرض ہم نہیں اتار سکتے۔میں تو سمجھتا ہوں اگر ہم پوری جدوجہد سے کام لیں تو ایک مہینہ میں ہی یہ قرض اتر سکتا ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ جماعت کے بعض افراد کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں۔مجھے ہمیشہ اس پالیسی سے اختلاف رہا ہے کہ جماعت کے کمزوروں کو چھوڑ کر صرف مخلصین جماعت سے کام لیا جائے کیونکہ اس طرح جماعت کا ایک حصہ ترقی کرنے سے کلیۂ محروم ہو جاتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اگر میں یہ بھی کہوں کہ جانے دو کمزوروں کو اور آؤ صرف مخلصین جماعت کے ذریعہ اس قرض کو اتارا جائے تب بھی یہ قرض اتر سکتا ہے۔کئی لوگ کہا کرتے ہیں کہ اس طرح کیا جائے مگر میرا طریق عمل یہی ہے کہ میں ساری جماعت کو ابھارا کرتا ہوں اور یہی ضروری ہو ا کرتا ہے۔ورنہ ایک دفعہ پہلے میں نے یہ تجویز کی اور آٹھ دس مخلصین سے کہا کہ جماعت کی مالی حالت اس وقت ایسی ہے کہ ضروری ہے کہ ہم اپنی ساری جائداد میں اس کے لئے دے دیں۔گو اس وقت اس تجویز کو عملی جامہ نہ پہنایا گیا لیکن میں نے دیکھا کہ اگر وہ آٹھ دس آدمی ہی اپنی ساری جائدادیں سلسلہ کو دے دیتے تو لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی جائدادیں دے سکتے تھے حالانکہ صرف چند آدمیوں سے میں نے وہ وعدے لئے تھے۔پس اگر خدا تعالیٰ وہ دن لائے اور خدا کرے کہ ہماری جماعت پر وہ دن نہ آئے جب جماعت کے کمزور حصہ کو چھوڑ دینا پڑے تب بھی چند مخلصین مل کر سلسلہ کی مالی حالت کو مضبوط کر سکتے ہیں اور اپنی جائدادیں اسے دے سکتے ہیں گو یہ الگ سوال ہے کہ جائدادوں کا بیچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اب موجودہ فتن کو دور کرنے اور تحریک جدید کو وسعت دینے