خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 188

خطبات محمود ۱۸۸ سال ۱۹۳۵ء بند کر کے اسلام کی تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر تا جر اس آواز پر لبیک کہے گا۔اسی طرح میں اگر زمینداروں سے کہوں تو وہ اپنے ہل چھوڑ کر آنے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور اگر ملازموں سے کہوں کہ ملازمتیں چھوڑ کر تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہو تو وہ ملازمتیں چھوڑ کر آنے کے لئے تیار ہو جائیں گے اور بہت کم منافق ایسے رہ جائیں گے جو نہ آئیں۔باقی سب تاجر کیا، اور زمیندار کیا ، ملازم کیا، اور غیر ملازم کیا اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے آجائیں گے۔یہ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندے بھی تو ایسا کمال کر کے دکھلائیں۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ محمد ﷺ کے نام پر تو ہم اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر رہے ہوں لیکن محبت ان لوگوں کے دلوں میں گھر بیٹھے موجزن ہو اور یہ کسی بھولے بھالے مسلمان نوجوان کے کسی ہند و کوقتل کر دینے پر واہ واہ ! کرنے کے سوا اور کوئی کام کرنا ہی نہ جانتے ہوں۔اگر وہ صحیح طریق ہے جو غریب محمد صدیق اور عبد القیوم نے اختیار کیا تو کیوں یہ اپنے بچوں کو اسی طریق پر چلنے کی ہدایت نہیں کرتے۔میں تو جس طریق کو ضروری سمجھتا ہوں اس پر چلنے کی اپنے ہر بچے کو تاکید کیا کرتا ہوں۔میں نے اپنے ہر بچہ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کیا ہوا ہے اور اگر میں انہیں تعلیم دلاتا ہوں تو یہ کہ کر تعلیم دلاتا ہوں کہ تم پر یہ قرض ہے اور تمہارا فرض ہو گا کہ تم اپنے علم کو اشاعت اسلام کے لئے صرف کر و۔پھر جب بھی کبھی جماعت کے سامنے مالی تحریک ہوتی ہے میں بعض دفعہ قرض لے کر بھی اس تحریک میں حصہ لیتا ہوں تاکسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ قربانی کے لئے ہمیں تو کہا جاتا ہے مگر خود قربانی نہیں کی جاتی۔پھر اوقات کی قربانی ہے اس میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے میں کسی سے پیچھے نہیں۔اگر کوئی دس گھنٹہ کام کرتا ہے تو میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بارہ چودہ بلکہ بعض دفعہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتا ہوں پس فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے مطابق میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ وہ قربانی کے ارادے جو میرے اندر ہیں ان کے ماتحت قربانیوں کے وقت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی کے پیچھے نہیں رہتا بلکہ آگے ہی بڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔غرض ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھا دیتے ہیں اور فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے مطابق ہماری جماعت موت قبول کر رہی ہے اور ہر وقت موت قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی ہماری جماعت سے ایسا سخت مطالبہ نہیں ہوا کہ تمام لوگ گھر بار چھوڑ کر تبلیغ اسلام کے لئے نکل کھڑے ہوں اور دیکھنے والوں پر ایک گہرا اثر ہو مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ اب تک ہماری