خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 187

خطبات محمود ۱۸۷ سال ۱۹۳۵ء سارے لوگ اس کی تعریفیں کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ اگر یہ قابل تعریف کام ہے کہ کسی غیر مسلم کو اسلام کے نام پر قتل کر دیا جائے تو کیوں ایسے مواقع پر یہ اپنے بچوں کو نہیں بھیجتے یا خود نہیں جاتے۔کیا عبدالقیوم اور محمد صدیق کے ماں باپ نہیں تھے ؟ کیا ان کے رشتہ دار اور عزیز واقارب نہیں تھے ؟ اگر تھے تو پھر زمیندار والے اختر علی خان کو کیوں نہیں بھیجتے کہ وہ جا کر کسی غیر مسلم کو قتل کریں یا دوسرے لوگ جو تعریفیں کرنے والے ہیں وہ اپنے بچوں کو کیوں نہیں بھیج دیتے۔اگر ان کی تعریف سچی ہوتی اور اگر وہ دل سے سمجھتے کہ محمد ﷺ کی محبت کا یہی تقاضا ہے کہ بد زبان غیر مسلم کو قتل کر دیا جائے تو آپ گھروں میں کیوں بیٹھ رہتے ہیں اور کیوں صرف دوسرے کی قربانی پر اظہارِ مسرت کرتے ہیں۔اس کا صاف یہ مطلب ہے کہ وہ خود اسلام کے لئے کسی قسم کی قربانی نہیں کرنی چاہتے حالانکہ اس جگہ اللہ تعالیٰ یہ معیار قرار دیتا ہے کہ اگر کوئی قوم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کا دعوی کرتی ہو تو ضروری ہے کہ وہ ایسی قربانیاں کرے جو دوسروں سے ممتاز حیثیت رکھتی ہوں۔پس اگر احرار بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کا درد اپنے سینہ میں ہم سے زیادہ رکھتے ہیں تو آئیں اور ہم سے قربانیوں میں مقابلہ کر لیں۔وہ بھی مالی قربانی کریں اور ہم بھی مالی قربانی کرتے ہیں ، وہ بھی جانی قربانی کریں اور ہم بھی جانی قربانیاں کرتے ہیں پھر دیکھتے ہیں کہ کون اس مقابلہ میں فائق رہتا ہے۔ہمارے آدمی ہمیشہ اپنے اموال قربان کرتے چلے آئے اور کرتے چلے جائیں گے ، اسی طرح ہمارے آدمی جانی قربانیاں بھی کرتے ہیں ، وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو چھوڑ کر اعلائے کلمتہ اللہ کیلئے ممالک غیر میں نکل جاتے ہیں۔احراری آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن یا درکھیں کہ اگر وہ اس مقابلہ پر آئے تو ہمارا چھپن ہزار بھی اِنشَاءَ الله ان سے ہر قسم کی قربانی میں بڑھ کر رہے گا اور اگر وہ اس مقابلہ میں ہم سے بڑھ جائیں تو پھر ہم جھوٹے ہونگے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے اندر منافق نہیں، قادیان میں بھی بعض منافق ہیں اور باہر کی جماعتوں میں بھی لیکن میں یہ جانتا اور یقین رکھتا ہوں کہ اگر آج ضرورت پڑے اور میں اپنی جماعت سے یہ مطالبہ کروں کہ صرف جو تیاں پہن لو اور گھر بار چھوڑ کر میرے پیچھے چلے آؤ تو میں یقین رکھتا ہوں کہ جب میں یہاں سے نکلوں گا تو بہت تھوڑے منافق پیچھے رہ جائیں گے، باقی سب میرے ساتھ چل پڑینگے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آج میں یہ اعلان کروں کہ جس قدر تاجر ہیں وہ اپنی تجارتوں کو چھوڑ کر اور اپنی دُکانوں کے دروازے