خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 189

خطبات محمود ۱۸۹ سال ۱۹۳۵ء جماعت سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں ہوا جسے اس نے پورا نہ کیا ہو بلکہ ہر مطالبہ پر اس نے خوشی کے ساتھ لبیک کہا۔پھر خدا تعالیٰ ان کے لئے جو موت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے فرماتا ہے۔قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ، مُلقِيكُمْ موتیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک وہ موت جو دشمن کے ہاتھوں آتی ہے اور دوسری وہ موت جو خود انسان اپنے نفس پر خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے وارد کرتا ہے۔گویا ایک طوعی موت ہوتی ہے اور ایک جبری موت ہوتی ہے۔جبری موت تو یہ ہے کہ دشمن مارنے آئے اور انسان اپنی حفاظت کے لئے قلعوں میں چھپے اور اس سے خوف کھائے لیکن طوعی موت وہ ہے جس پر دل راضی ہوتا ہے اور انسان کسی مصیبت کی پرواہ نہیں کرتا پس فرمایا ہم نے جو موت پیش کی ہے اسکے بعد تمہارے لئے زندگی مقدر تھی۔تمہارے باپ دادوں نے اس راز کو سمجھا اور وہ موت کا پیالہ بخوشی پی گئے تب خدا تعالیٰ نے انہیں دائگی حیات کا وارث کر دیا اگر تمہارا آج بھی یہ دعوئی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے اولیاء ہو تو تم کیوں وہ قربانیاں نہیں کرتے جو تمہارے باپ دادوں نے کیں تم شاید یہ مجھتے ہو کہ اگر تم نے یہ قربانیاں کیں تو تم تباہ ہو جاؤ گے حالانکہ تباہی حَذَرَ السَمَوت والی موت کے نتیجہ میں آتی ہے۔مُوتُوا والی موت کے نتیجہ میں تو زندگی حاصل ہوتی ہے۔تمہارے بڑے جب موت کے ڈر سے بھاگے تھے تو خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے منہ سے یہ کہلوایا تھا کہ مرجاؤ پھر وہ مر گئے اور زندہ ہو گئے مگر اب تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اسی موت سے بھاگے جا رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ یہ زندگی کا موجب نہیں ہو سکتی۔قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِى تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ، مُلقِيْكُمْ دیکھو! ہم نے تمہارے سامنے زندگی والی موت پیش کی اور تم نے سمجھا کہ جو موت تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے وہ زندگی والی نہیں بلکہ ہلاکت کے گڑھے میں گرانے والی ہے تم اس سے بھاگے مگر اے کم بختو ! اب تم کدھر بھاگے جا رہے ہو جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تو زندہ کرنے والی ہے مگر جس موت کی طرف جا رہے ہو وہ تمہیں ہمیشہ کے لئے فنا کر دینے والی ہے یعنی وہ قوم جو دین کے لئے قربانی نہیں کرتی ، جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے لئے فنا کرنے کو تیار نہیں ہوتی وہ مر جاتی اور اس کا نام دنیا سے مٹ جاتا ہے تو الموت میں حَذَرَ الْمَوت کی طرف اشارہ ہے اور تَمَنَّوُا الْمَوْتَ میں اس موت کا ذکر ہے جو هُوتُوا والی ہے۔اور اس طرح بتایا ہے کہ تم جس طرف بھاگے جا رہے ہو درحقیقت موت وہ ہے اور جس موت سے ڈر رہے ہو وہ زندگی کا پیالہ ہے جسے تم نہیں پینا چاہتے۔بے شک اگر تم