خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 186

خطبات محمود ۱۸۶ سال ۱۹۳۵ء صلى الله علیم اور یہودیوں کی قربانیوں کا مقابلہ کیا گیا اور یہود سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی اَوْلِيَاءُ لِلَّهِ ہو تو تم مسلمانوں سے قربانیوں میں مقابلہ کر لو ۔ اگر مسلمانوں سے تم قربانیوں میں بڑھ جاؤ تو ظاہر ہو جائیگا کہ تم میں دین کا زیادہ جوش ہے اور اگر مسلمان ان قربانیوں میں بڑھ جائیں تو یہ تمہارے جھوٹے ہونے کا ثبوت ہوگا ۔ یہی آجکل ہم غیر احمدیوں سے کہہ سکتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں وہ احرار جو یہ کہتے ہیں کہ احمدی رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے والے ہیں ، وہ احرار جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا درد احمد یوں کے دلوں میں نہیں ، وہ احرار جو یہ کہتے ہیں کہ احمدی اسلام کے دشمن اور رسول کریم سے عناد رکھنے والے ہیں میں انہیں چیلنج کرتا کرتا ہوں کہ وہ آٹھ کروڑ مسلمانان ۔ نان ہند کے نمائندہ ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور ہمارے متعلق کہتے ہیں کہ ہم چھپن ہزار ہیں ، گو نہ یہ صحیح ہے کہ وہ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کے نمائندہ ہیں اور نہ یہ صحیح ہے کہ ہماری تعداد چھپن ہزار ہے مگر ان کے منہ کا دعوی چونکہ یہی ہے اس لئے بفرض محال اسے درست تسلیم کرتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ اگر وہ اپنے دعوئی میں سچے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ بیہودہ طریق پر لڑیں اور گند پھیلائیں ، کیوں قرآن مجید کے اس بیان کردہ معیار کے مطابق آپس میں فیصلہ نہیں کر لیتے ۔ اگر وہ اپنے دعوئی میں سچے ہیں تو آئیں اور غیر قوموں یعنی ہندوؤں اور عیسائیوں وغیرہ کو مسلمان بنانے کے لئے وہ بھی قربانیاں کریں اور ہم بھی قربانیاں کرتے ہیں ۔ وہ بھی آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کو لے کر اشاعت اسلام کے لئے جانی اور مالی قربانیاں کر کے دکھلائیں اور ہم بھی اپنے چھپن ہزار افراد کو لیکر مالی اور جانی قربانیاں کرتے ہیں ۔ پھر دنیا پر خود بخود ظاہر ہو جائے گا کہ کون اسلام کی محبت کے دعوئی میں سچا ہے اور کون کا ذب ، کون اپنے منہ کی لاف و گزاف سے دنیا کو قائل کرنا چاہتا ہے اور کون عملی رنگ میں اسلام سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔ صرف منہ سے اسلام کی محبت کا دعوی کرنا تو ایسا ہی ہے جیسے کہتے ہیں سو گز واروں گز بھر نہ پھاڑوں ۔ ہم سے جانی اور مالی قربانیوں میں مقابلہ کر لیں اور پھر دیکھیں کہ کون اسلام کا سچا درد اپنے سینہ میں رکھتا ہے۔ ان میں اسلامی محبت تو صرف اتنی رہ گئی ہے کہ اگر کسی غیر مسلم نے رسول کریم کے متعلق سخت الفاظ لکھے تو اُٹھے اور اُسے قتل کر دیا۔ بے شک ایسا شخص جو رسول کریم کے لئے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا اس کے دل میں کسی قدر اسلام سے محبت تو ضرور ہوتی ہے مگر وہ نادان محبت کرنے والا ہوتا ہے ۔ ایسا ہی اسلام کا نادان دوست جب کسی غیر مسلم کو مار دیتا ہے تو یہ