خطبات محمود (جلد 16) — Page 185
خطبات محمود ۱۸۵ سال ۱۹۳۵ء جماعت والی قربانیاں پیش کرو۔کیا تم اسی طرح اپنی جانیں اور اپنے اموال اور اپنی عزت اور اپنی آبرو اور اپنے جذبات اور اپنے احساسات اور اپنی شہوات کو خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر رہے ہو جس طرح موسیٰ کے ساتھیوں نے کیا اگر نہیں کر رہے تو تمہارا کیا حق ہے کہ یہ کہو کہ ہم مِن دُونِ النَّاسِ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ ہیں۔دیکھ لو سورہ بقرہ کی آیت میں بھی اس مضمون کے بعد یہ فرمایا ہے کہ وَ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِیمٌ۔یعنی اے مسلمانو! ہم نے موسٹی پر ایمان لانے والوں سے کہا تھا کہ اب تمہارے زندہ رہنے کی یہی صورت ہے کہ دشمن کا مقابلہ کرو اور اپنی جانیں اس مقابلہ میں قربان کرد و پس تم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کو تیار ہو جاؤ۔قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ نے تشریح کر دی ہے کہ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے کیا معنی ہیں۔فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ کے یہی معنی ہیں کہ تم اپنی ہر چیز خدا تعالیٰ کے رستہ میں لٹا دو۔پس اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالا ہے کہ فَتَمَنَّوا الْمَوْتَ میں مُؤتُوا والی موت کی طرف اشارہ ہے اور گو اس کے وہ بھی معنی ہیں جن سے مباہلہ کا استنباط ہوتا ہے مگر اس کے یہ دوسرے معنی بھی ہیں اور قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ کے الفاظ ان معنوں پر دلالت کرتے ہیں مگر فر ما یاوَ لَا يَتَمَنَّوْنَهُ، اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ یہ کبھی اس موت کو اپنے نفوس پر وارد کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ان کی ساری زندگی جب کہ گناہوں میں گزری تو انہیں اس عظیم الشان نیکی کی تو فیق کس طرح مل سکتی ہے۔اخلاص ، اخلاص کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور نیکی ، نیکی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔جن کے دل میں ایمان نہ ہو وہ اگر چہ زبان سے فدائیت کے دعوے کرتے چلے جاتے ہیں مگر وقت آنے پر ان کا قدم پھسل جاتا ہے۔منافق آدمی بھی منہ سے بظاہر یہ کہتا ہے کہ دین کے لئے میں اپنی جان فدا کر دوں گا لیکن وقت آنے پر اسے قربانی کی توفیق نہیں ملتی کیونکہ قربانی اس کے دل میں نہیں ہوتی۔اگر یہودیوں کے دلوں میں بھی سچا ایمان ہوتا تو کیا ممکن تھا کہ وہ صحابہ کے مقابلہ پر قربانیاں نہ کرتے محمد ﷺ کے صحابہ نے تو اپنی جانیں خدا تعالیٰ کے لئے قربان کر دیں، اپنے اموال اس کے راستہ میں لٹا دیئے ، اپنی عزتیں اس پر نچھاور کر دیں، اور اپنے وقار کی کوئی پرواہ نہ کی۔اگر دشمن آیا تو اس سے کوئی خوف نہ کیا۔اس کے مقابلہ میں یہود کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم نے کیا کیا ؟ اگر کچھ بھی نہیں کیا تو کس طرح تم کہہ سکتے ہو کہ تمہارے اندر دین کی حقیقی روح پائی جاتی ہے۔دیکھو یہاں مسلمانوں