خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 184

خطبات محمود ۱۸۴ سال ۱۹۳۵ء دائگی حیات کے وارث بننا چاہتے ہو تو بجائے اس کے کہ دشمن آئے اور تمہارے اموال لوٹے کیوں تم اپنے مال خدا تعالیٰ کی راہ میں چندوں میں نہیں لٹا دیتے ، بجائے اس کے کہ دشمن آئے اور تمہیں اپنے گھروں سے نکالے کیوں تم آپ تبلیغ دین کے لئے اپنے گھروں کو چھوڑ کر غیر ملکوں میں نہیں نکل جاتے اور بجائے اس کے کہ دشمن آئے اور تمہیں مارے کیوں خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانوں کو خود قربان نہیں کر دیتے۔کیا یہ اچھا ہے کہ دشمن مارے یا یہ اچھا ہے کہ تم خود اپنے آپ کو خدا کی راہ میں قربان کر دو؟ جب دشمن مارے گا تو اس کے بعد زندگی کا سامان تمہارے لئے کوئی نہیں ہو گا لیکن جب اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کرو گے تو زندہ ہو جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے اس حکم پر وہ مر گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اَحْيَاهُم - اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ جاوید کر دیا۔پس فرما یا قومی ترقی کا گر یہ ہے کہ افراد اپنے آپ کو خدا کے لئے ہلاکت میں ڈال دیں تب اس کے نتیجہ میں انہیں دائی حیات ملتی ہے۔بندہ موت خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے اور خدا زندگی بندے کو عطا فرما تا ہے جس طرح دو دوستوں میں جب تبادلہ اشیاء ہو تو ایک دوست اپنی بہترین چیزیں دوسرے کو دیتا ہے اور دوسرا دوست اپنی بہترین چیزمیں اسے دے دیتا ہے اسی طرح مخلص بندوں کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو دے دیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اپنے بندوں کو دے دیتا ہے۔بندہ اپنی چیز دیتا ہے اور خدا اپنی چیز ، بندوں کے پاس موت سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں پس بندہ موت اپنے خدا کے قدموں میں ڈال دیتا ہے اور خدا جو حیات کا مالک ہے وہ دائی زندگی کی چادر اُس پر ڈال دیتا ہے۔پس فرماتا ہے کہ یہ درست ہے کہ ایک وقت میں ہم نے کہا تھا کہ آج نجات صرف تمہارے لئے ہی مخصوص ہو چکی ہے اور کسی قوم کے لئے نجات نہیں۔نجات محصور ہے مصر اور کنعان کے لوگوں میں یا مصری اور یہودی قبائل میں۔اور بے شک ہم نے کہا تھا کہ مصریوں اور یہودیوں میں سے کوئی شخص نجات نہیں پاسکتا سوائے ان لوگوں کے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے مگر فر ما یا اس کے ساتھ ایک شرط بھی تھی اور وہ یہ کہ ہم نے انہیں کہا تھا مُوتُوا۔اگر مر جاؤ گے تو ہم تمہیں دائمی زندگی دیں گے۔اُس وقت کے لوگوں نے ہمارے اس حکم کے مطابق اپنے لئے موت قبول کی اور خدا تعالیٰ نے انہیں زندگی دے دی اگر تم سمجھتے ہو کہ اب بھی تم موسیٰ کے اتباع میں شامل ہو تو فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ۔موسیٰ کی