خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 183

خطبات محمود ۱۸۳ سال ۱۹۳۵ء کیلئے مرنے کے لئے تیار رہو۔ہاں جب تم کہہ دو کہ اور قوموں کا بھی نجات پانے کا حق ہے تو بے شک اُس وقت وہ بھی ذمہ دار ہوں گی اور گو پھر بھی اگر کوئی بالکل خاموش بیٹھا رہے اور دین پر مصیبت آتی دیکھ کر اس کے دل میں کوئی احساس پیدا نہ ہو تو وہ جرم سے گلی طور پر بری نہیں ہو گا صرف اس کا جرم کسی قدر کم ہو جائے گا مگر جب تک تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا میں اکیلی خدا کی محبوب جماعت صرف جماعت احمد یہ ہی ہے تو اُس وقت تک اگر تم مرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو تمہارا جرم خطرناک حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔غرض علاوہ مباہلہ کے جس کا ان آیات میں ذکر ہے مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ سمجھایا ہے کہ اس آیت میں جس موت کا ذکر ہے وہ وہ موت ہے جو دین کی خدمت کے لئے خدا کی ہر قوم کو اپنے نفوس پر وارد کرنی پڑتی ہے۔چنانچہ انہی معنوں کی تائید میں میرے دل میں ایک اور آیت سورہ بقرہ کے بتیسویں رکوع میں ڈالی گئی ہے یہاں بھی یہودیوں کا ذکر ہے اور وہاں بھی یہودیوں کا بیان ہے۔اللہ تعالیٰ یہود کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمُ الُوقْ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللهُ مُوْتُوا ثُمَّ اَحْيَاهُمُ - إِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ وَ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ کے فرماتا ہے وہ وقت تمہیں معلوم ہے جب کہ ہزار ہا یہود اپنے گھروں سے موت کے ڈر سے نکلے یا یہود کے چند خاندان موت کے ڈر سے باہر نکلے کیونکہ بعض ادیبوں نے الف کے معنی قبائل اور خاندان کے بھی کئے ہیں۔پس فرمایا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ہزارہا یہود جو مختلف قبائل سے تعلق رکھتے تھے اپنے گھروں سے نکلے انہیں اپنی تباہی و بربادی اپنے سامنے نظر آتی تھی وہ دیکھتے تھے کہ ساری دنیا انہیں کچلنے کے لئے تیار ہے ، در و دیوار انہیں مارنے کیلئے دوڑتے تھے، زمین ان کے لئے تنگ تھی اور آسمان ان پر آگ برسا رہا تھا تب وہ یہود اپنے زمانہ کے نبی کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اب تو ہم اس مخالفت سے مرنے لگے۔فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوْتُوا۔تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ انہیں کہا کہ اگر دشمن تمہیں مارنے کیلئے آ رہا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ تم اس کے مارنے سے پہلے خود اپنے آپ کو مار دو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے یہ حکم دیا تو وہ مر گئے۔ثُمَّ أَحْيَاهُمْ۔اس پر اللہ تعالیٰ نے پھر ان کو زندہ کر دیا اس جگہ صاف الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا ہے کہ یہود کو جب دشمن تباہ کر نے لگا تو میں نے یہ حکم دیا تھا مُو تُوا۔یعنی اگر تم موت سے بچنا چاہتے ہو، اگر تم