خطبات محمود (جلد 16) — Page 175
خطبات محمود ۱۷۵ سال ۱۹۳۵ء ہوں۔پس دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس کے سامنے اصولی طور پر یہ سوال رکھا جائے کہ اگر کوئی شخص منہ سے ایمان لانے کا دعوی کرے مگر نہ اس کے عقائد ایمان کے مطابق ہوں اور نہ اعمال ایمان کے مطابق ہوں تو کیا وہ گدھے کی مانند ہے یا نہیں اور وہ اس کا نفی میں جواب دے۔پس اس میں کسی قوم کی خصوصیت نہیں اور اس قسم کے الفاظ گالی نہیں بلکہ اظہارِ حقیقت ہوتے ہیں۔پس نادان لوگ اس قسم کے الفاظ کو گالیاں قرار دیتے ہیں حالانکہ جب قرآن مجید میں یہ لکھا ہوا موجود ہے کہ وہ یہود جو تو رات پر عمل نہیں کرتے گدھوں کی طرح ہیں تو پھر مسلمانوں کو اس طریق کلام پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے کیا مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کے متعلق کوئی سخت لفظ بطور اظہا ر واقعہ کہہ دیا جائے تو وہ نا جائز ہے لیکن اگر دوسروں کے متعلق ویسا ہی سخت لفظ بطور ا ظہا ر واقعہ کہہ دیا جائے تو وہ جائز ہے۔جولوگ آج یہ شور مچاتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں مخالفوں کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں وہ سوچیں کہ جب یہودیوں کے سامنے یہ کہا جائے کہ تمہیں تو رات دی گئی تھی مگر تم نے اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا اس لئے اب تم اس گدھے کی مانند ہو گئے ہو جس پر کتا بیں لدی ہوئی ہوں تو کیا وہ یہ سنتے ہی اَلحَمدُ لِلهِ کہتے ہوئے بغلگیر ہو جائیں گے اور کہیں گے جَزَاكَ اللهُ آر نے کیسا اچھا لفظ استعمال کیا یا وہ برا منائیں گے اور اس لفظ کے استعمال کو اپنی ہتک سمجھیں گے ؟ مگر تعجب ہے مسلمان قرآن مجید میں تو پڑھتے ہیں کہ یہود گدھے کی مانند ہیں اور خاموش رہتے ہیں لیکن جب ان کے سامنے ان کی حقیقت پیش کی جائے تو وہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔آخر قرآن مجید نے یہ طریق کیوں اختیار کیا ؟ اسی لئے کہ انہوں نے الہی کتاب پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔پھر اگر مسلمان اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرنا چھوڑ دیں تو کیوں انہی الفاظ کے مستحق نہیں جن کی پہلی قو میں مستحق ہوئیں۔قرآن تو خود کہتا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَ يَهْدِی بِهِ كَثِيرًا سے یعنی جو طریق ہم نے اختیار کیا ہے یہ کئی لوگوں کو اچھا لگے گا اور کئی لوگوں کو برا ، کئی لوگ ہدایت پائیں گے اور کئی گمراہ ہوں گے۔مسلمان آخر کیوں یہ امید رکھتے ہیں اگر یہ دوسری اقوام کے بزرگوں کے متعلق ہنسی کی باتیں کریں تو وہ ادبی لطائف قرار دیئے جائیں لیکن اگر دوسری قوم کے افراد مسلمانوں کے بزرگوں کو بُرا بھلا کہیں تو واجب القتل قرار پائیں۔اگر یہ صحیح ہے کہ سکھ مسلمانوں کے بزرگوں کے متعلق سخت الفاظ استعمال کریں، اگر ہند و مسلمانوں کے بزرگوں کے متعلق سخت الفاظ استعمال کریں ، اگر عیسائی