خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 176

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء مسلمانوں کے بزرگوں کے متعلق سخت الفاظ استعمال کریں تو مسلمانوں کا حق ہو جاتا ہے کہ سخت الفاظ کہنے والوں کو قتل کر دیں تو پھر غیر مسلموں کا بھی حق ہے کہ جو مسلمان ان کے بزرگوں پر ہنسی اُڑائیں ایسے مسلمانوں کو وہ قتل کر دیں۔مگر کیا اس طرح دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے اور کیا اس طرح صلح اور محبت کی فضا پیدا ہو سکتی ہے؟ ہر عقلمند انسان کہے گا کہ اگر یہ راستہ کھول دیا جائے تو فتنہ فساد کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔جس نے سمجھ لیا کہ فلاں نے اس کے خلاف بات کہی ہے وہ اُٹھے گا اور اُسے قتل کر دے گا حالانکہ کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں جس میں اس قسم کے الفاظ نہ پائے جاتے ہوں۔ویدوں میں بھی اس قسم کے الفاظ آتے ہیں ، تو رات میں بھی اس قسم کے الفاظ آتے ہیں ، خندا اوستا میں بھی اس قسم کے الفاظ آتے ہیں اور قرآن کریم میں بھی اس قسم کے الفاظ موجود ہیں مگر وہ گالیاں نہیں ، اظہار حقیقت ہے۔گالی وہ چیز ہوتی ہے جو حقیقت حال کا اظہار نہیں کرتی اور اس میں جھوٹ ہوتا ہے مگر اظہارِ واقعہ حقیقت کے مطابق ہوتا ہے۔در اصل سخت الفاظ ہمیشہ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک گالی اور ایک اظہار حقیقت۔پھر اظہار حقیقت بھی دو قسم کا ہوتا ہے ایک بُرا اظہارِ حقیقت ہوتا ہے اور ایک اچھا۔گالی یہ ہے کہ کسی کو کتا کہ دیا جائے بغیر اس کے کہ کتے کی کسی صفت کی طرف اشارہ ہو۔مثلاً کہتے میں بھونکنے کی عادت ہے اگر کوئی شخص ایسا ہو جو راہ چلتے لوگوں کو بلا وجہ گالیاں دے اور منع کرنے کے باوجود نہ رکے، ہاں اسے کچھ رقم دے دی جائے تو خاموش ہو جائے تو اگر ایسے شخص کو ہم کتا کہیں گے تو یہ اظہار حقیقت ہو گا لیکن اس کی بجائے اگر ہم کوئی اور لفظ اس کے متعلق استعمال کریں مثلا سؤر کہ دیں تو یہ گالی ہوگی کیونکہ یہ واقعہ کے مطابق نہیں۔یا فرض کرو کسی مسئلہ پر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے گفتگو کر رہا ہو اور دوسرالا جواب ہو کر کہہ دے کہ تو خبیث کتا سو رہے، تو کوئی نہیں کہے گا کہ یہ اظہارِ حقیقت ہے کیونکہ کتے مسائل میں اختلاف نہیں کیا کرتے اور نہ سو رمسائل پر بحثیں کیا کرتے ہیں۔پس اس جگہ جو کتا، سورا اور خبیث کہا جائے گا یہ گالی ہوگی کیونکہ اس میں کوئی استعارہ مد نظر نہیں اور نہ کوئی ایسی بات مد نظر ہے جو حقیقت حال کے مطابق ہو۔آگے حقیقت حال بھی جیسا کہ میں نے بتایا ہے دو قسم کی ہوتی ہے ایک غلط قسم کی حقیقت حال ہوتی ہے اور ایک صحیح حقیقت حال ہوتی۔