خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 134

خطبات محمود ۱۳۴ سال ۱۹۳۵ء دنیا میں قائم ہو۔اس کی راہ میں جو روکیں ہوں انہیں دور کر و چونکہ اب وقت نہیں میں اس تمہید پر آج کا خطبہ بند کرتا ہوں لیکن ختم کرنے سے پہلے ایک بات کہنی چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ آج مجھے ایک شکایت پہنچی ہے اور پہلے بھی پہنچی تھی کہ بعض پولیس والوں کے ساتھ بعض احمدیوں کا سلوک اچھا نہیں۔شکایت کرنے والے کو تو میں نے کہا تھا کہ اس کی مثالیں پیش کرو لیکن جماعت کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا اصل مقصد تسبیح ہے اور یہ کہ احمدیت دلوں میں قائم ہو جائے۔اس کی وجہ سے اگر کوئی شخص ہم سے لڑتا ہے تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں لیکن اگر وہ صلح کے لئے آتا ہے تو چاہئے کہ اگر وہ ایک قدم بڑھے تو ہم دو قدم اُس کی طرف بڑھیں اور ہمارا رویہ ایسا ہونا چاہئے کہ کسی حالت میں بھی ہم پر کوئی نکتہ چینی نہ کر سکے۔ہمیں اپنے تمام اعمال میں پاکیزگی دکھانی چاہئے۔میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ تم لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ یہ شکار ہے جو شیر کے کچھار میں آیا ہے ہم ان لوگوں تک کہاں اپنے مبلغ پہنچا سکتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو یہاں بھیج دیا ہے اور خدا کے مہمان کی قدر نہ کرنا اچھا نہیں۔میں جانتا ہوں کہ جس نے یہ اعترض کیا ہے وہ پھر بھی کہے گا کہ احمدی ورغلانے لگے ہیں مگر ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ اعلیٰ اخلاق دکھائیں اور اخلاق کی تائید میں اگر اعتراض بھی ہو تو اُسے برداشت کریں ہمیں حکم ہے کہ مسافر سے حسن سلوک سے پیش آئیں۔پس اس حکم کے ماتحت ان لوگوں سے اچھا سلوک کرنا چاہئے لیکن احمدی کہلانے والے آوارہ گرد نو جوانوں کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ایسے لوگوں کو بعض پولیس والے ساتھ ملا کر جھوٹ بلوالیتے ہیں جیسا کہ پہلے کیا جا چکا ہے۔ان کے سوا تجربہ کار اور دیندارلوگ ان سے ضرور ملا کر یں۔وہ اگر کوئی جگہ دیکھنے آئیں تو دکھانے کے لئے ساتھ آدمی مقرر کر دیئے جائیں ، اگر کوئی قرآن کریم یا دوسری دینی کتب پڑھنا چاہے تو اسے پڑھایا جائے۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے بعض لوگ قرآن کریم پڑھتے بھی ہیں یا گزشتہ پانچ سات روز ہوئے پڑھتے تھے آج کا علم نہیں۔پس جو چاہیں ان کے لئے پڑھنے کا انتظام کرو اور دنیوی آرام کے لئے جہاں تک ممکن ہو ان کی مددکر و۔جس امر پر آج ہمیں رنج ہے وہ تو صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر حملہ کا سوال ہے ورنہ ہم تو دشمن سے بھی اچھا سلوک کرنا چاہتے ہیں۔ان لوگوں میں سے سارے بُرے نہیں ہیں اگر ان سے اچھا سلوک نہ ہو تو پھر بے شک کہیں گے کہ ہمارے مولوی ٹھیک کہتے تھے کہ احمدی اچھے نہیں ہوتے احمدی واقع میں بُرے ہیں لیکن اگر نمونہ اچھا ہو تو جس جگہ بھی یہ لوگ جائیں