خطبات محمود (جلد 16) — Page 135
خطبات محمود ۱۳۵ سال ۱۹۳۵ء گے تعریف کرینگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک عرب سوالی یہاں آیا آپ نے اسے ایک معقول رقم دیدی۔بعض نے اس پر اعتراض کیا تو فرمایا یہ جہاں بھی جائیگا ہمارا ذکر کرے گا خواہ دوسروں سے زیادہ وصول کرنے کے لئے ہی کرے مگر دُور دراز مقامات پر ہمارا نام پہنچا دے گا تو حُسنِ سلوک تعریف کرواتا ہے اس لئے پولیس والوں سے بھی حُسنِ سلوک کرو۔اگر ان میں سے کوئی کچھ پوچھتا ہے تو یہ کیوں فرض کر لو کہ جاسوسی کے لئے ہی آیا ہے بلکہ اسے سمجھاؤ کہ ہم سب کے خیر خواہ ہیں اور ہمارے متعلق یونہی بدظنی کی جاتی ہے۔اگر پانچ میں سے ایک کی سمجھ میں بھی یہ بات آ جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے پس اپنا رویہ خدا تعالیٰ کی صفات کے مطابق رکھو۔پولیس والے ابو جہل سے بھی تو بُرے نہیں ہیں اس لئے ان سے مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ان سے ملوا اور انہیں بتاؤ کہ ہمارے نزد یک افسری ماتحتی کوئی چیز نہیں۔انسانیت کے لحاظ سے سب برابر ہیں اور انسانی لحاظ سے ہمارے نزدیک ایک کمشنر اور ایک کانسٹیبل (CONSTABLE) دونوں برابر ہیں۔ایک دفعہ ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس چائے پر میرے ہاں آئے۔ان کے ساتھ ایک سب انسپکٹر بھی تھے۔میں نے کہا انہیں بھی بلا لیا جائے۔اس پر مجھے بتایا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے یہ امر پسند نہیں کیا۔میں نے کہا خیر یہ ان کی اپنی تفریق ہے ورنہ ہمارے لئے تو سب برابر ہیں۔ہاں نیکی کے لحاظ سے فرق ہو تو ہو ورنہ سلوک ہمارا سب سے اچھا ہو گا۔جو شخص کمشنر سے ڈر کر اس سے اچھا سلوک کرتا ہے اور سپاہی سے اس لئے انسانیت کے ساتھ پیش نہیں آتا کہ وہ اٹھارہ انہیں روپیہ کا ملازم ہے وہ روپیہ کی عزت کرنے والا ہو گا انسانیت کی نہیں۔پس چاہئے کہ ہمارا سب سے اچھا سلوک ہو، تا کوئی ہمارے متعلق بُرا اثر لے کر نہ جائے۔چاہئے کہ یہ لوگ باہر جا کر کہیں کہ احمدی اچھے حاکم ہیں ، ان میں ذاتی نیکی پائی جاتی ہے ، وہ گواہی دیں کہ احمدی بڑے عزیز ہیں مستقل مزاج ہیں۔ہم نے ان میں سے بعض کو روپے دیگر پھسلانا چاہا مگر کسی نے ہماری نہیں سنی ، وہ حکیم ہیں جو بات بھی کرتے ہیں ایسی ہی کرتے ہیں جس میں اپنا بھی اور غیروں کا بھی فائدہ ہو، یونہی دھینگا مشتی نہیں کرتے۔یہ نمونہ دکھاؤ پھر دیکھو ان میں تبلیغ کس طرح ہوتی ہے، یہ نہ کرو کہ بعض کی غلطیاں سب کی طرف منسوب کرو۔ورنہ تم بھی انہی حکام کی طرح کے ہو جاؤ گے جو کبھی تو جھوٹ بنا کر ہماری طرف منسوب کر دیتے ہیں اور کبھی ایک احمدی کی غلطی ساری جماعت کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔جس کے ساتھ مخالفت ہوا سے بھی اُس کے