خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 132

خطبات محمود الله سال ۱۹۳۵ء میں ہندوستانیوں کی حکومت ہو گئی اور اس کا نقشہ یوں کھنچتے ہیں کہ سٹیشن کا عملہ گاڑی کا وقت نہیں بتا تا بلکہ یہ کہتا ہے کہ جب سواریاں پوری ہونگی ٹرین چلے گی اور ریل کے جانے کی جہت بھی متعین نہیں کرتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ جدھر کی سواریاں زیادہ ہونگی اُدھر ٹرین جائے گی ۔ اسی طرح جب گاڑی چلنے لگتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کوئلہ نہیں اور اس وقت کوئلہ منگوایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ غرض انہوں نے ایسا لطیف نقشہ کھینچا کہ ہندوستانی کریکٹر کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے یہ ہندوستانی کریکٹر عزیزیت کے خلاف ہے اور خدا کی جنت میں وہی داخل ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مشابہ ہو جائے ۔ عزیزیت کا یہ مفہوم ہے کہ سوچ سمجھ کر اقدام کریں اور پھر خواہ جان جائے ، آن جائے ، آبرو جائے ، مال جائے پیچھے نہ ہٹیں ، اگر ہٹنا ہے تو پہلے ہی آگے کیوں بڑھا جائے ۔ بہت سے لوگ دنیا میں سودیشی ریل والا نظارہ دکھاتے ہیں کہ جدھر کی سواریاں زیادہ ہوئیں اُدھر کا رخ کر لیا یعنی جدھر فائدہ نظر آیا اُدھر ہو گئے ۔ بعض کہتے ہیں کہ ہم احمدی ہو جاتے ہیں ہماری شادی ہو جائے ، ہمیں کام مل جائے ، ہمارے گزارے کی کوئی صورت پیدا کر دی جائے حالانکہ احمدیت کسی دکان کا نام نہیں بلکہ یہ تو مذہب ہے ۔ مذہب کے متعلق ایسی باتیں کرنا سودیشی ریل والا نظارہ پیش کرنا ہے ۔ اس کے برعکس حقیقی ریل دیکھو جس نے دس بجے روانہ ہونا ہوتا ہے کوئی سواری آئے یا نہ آئے وہ وقتِ مقررہ پر چل دے گی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مؤمن کو عزیز بننا چاہئے ۔ اگر وہ کسی عقیدہ کو قبول کرتا ہے تو اپنے آپ کو اُس کے لئے وقف کر دے ۔ دھوکا بازی نہ کرے جس نے راستہ میں رہ جانا ہو وہ پہلے ہی ساتھ کیوں چلے ۔ پھر فرمایا خدا تعالیٰ حکمت والا ہے بعض لوگ ہوتے ہیں کہ انہیں جب کسی کام پر لگایا جائے وہ عقل سے کام نہیں لینا چاہتے اور یہ نہیں دیکھتے کہ خدا کا ایک نبی اُٹھتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ فلاں شخص یا قوم تباہ ہو جائے گی لیکن مقررہ وقت آجاتا ہے اور ان پر کوئی تباہی نہیں آتی اور پھر وہ اعلان کر دیتا ہے کہ ان لوگوں نے توبہ کر لی تھی اس لئے بچ گئے جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بھی حکمت کے ما تحت رستہ بدلتا ہے لیکن اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ایک انجینئر دیکھتا ہے کہ رستہ میں ایک بلند پہاڑی ہے جس کے اوپر سے سڑک یا پٹڑی گزارنے پر بہت خرچ آئے گا تو وہ اس کے اندر سُرنگ لگا کر رستہ بنا دیتا ہے وہ اپنے مقصد کو نہیں چھوڑتا ، ہاں رستہ بدل دیتا ہے اس لئے مؤمن کو بھی حکمت سے کام کرنا چاہئے ۔ استقلال کا یہ تقاضا نہیں ہونا چاہئے کہ جس بات پر آج عمل ہے حالات بدلنے کے