خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 129

خطبات محمود ۱۲۹ سال ۱۹۳۵ء دونوں میں پاکیزگی ہو اللہ تعالیٰ قدوس ہے وہ فریب ، منافقت ، مداہنت اور ٹھگی نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ لوگ گمراہی سے بچ جائیں یہ نہیں کہ بظاہر اچھا سلوک کرے لیکن دراصل سزا دینے کے لئے موقع کا منتظر رہے وہ جب سزا نہیں دیتا تو چاہتا بھی یہی ہے کہ نہ دے بلکہ جب دیتا ہے اُس وقت بھی چاہتا یہی ہے کہ نہ دے لیکن سزا پانے والا اپنے اعمال سے اُسے سزا دینے پر مجبور کر دیتا ہے۔پس دیکھو اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کس طرح ثابت ہو رہی ہے وہ لوگوں کے فائدہ کے لئے اور ان کو تباہی سے بچانے کیلئے نبی بھیجتا ہے بلکہ دس سال ہیں سال بلکہ سو دوسو سال تک وہ یا ان کی جماعتیں ظلم سہتی ہیں۔مخالف کو دتے ناچتے اور ان کو طرح طرح سے تنگ کرتے اور سارا زوران کو تباہ کرنے کے لئے صرف کر دیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ جس کا دین ہوتا ہے سب کچھ دیکھتا ہے میں یہ تو نہیں کہتا کہ مسکراتا ہے لیکن کہا جا سکتا ہے کہ اس کے مشابہہ سلوک اس کی طرف سے ہوتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام دنیا میں آئے ان پر اور ان کے پیروؤں پر بڑے بڑے ظلم ہوئے اور تین سو سال تک وتے چلے گئے مگر اللہ تعالیٰ کی قدوسیت دیکھو کہ وہ یہی چاہتا رہا کہ اب بھی ان کے مخالفوں کی اصلاح ہو جائے ، اب بھی ہو جائے جس دن حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا، کیا خدا تعالیٰ یہ نہیں کر سکتا تھا کہ اُسی دن سب یہودی ہلاک ہو جاتے اور روما کی حکومت تہہ و بالا ہو جاتی لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔رومی بھی ویسے ہی رہے ان کی حکومتیں بھی ویسی ہی رہیں اور یہودی بھی ویسے ہی رہے ، ان کے بینک ، ان کی صرافیاں ، ان کی تجارتیں سب کچھ ویسے کا ویسا ہی رہا اور انہیں محسوس بھی نہ ہوا کہ ہم نے کیا کیا ہے۔انہیں اتنا بھی احساس نہ ہو ا جتنا ایک چیونٹی کو مارنے سے ہو سکتا ہے بلکہ یہودی خوش تھے کہ اپنے ایک دشمن کو مار دیا ہے۔نہ ان کے بینک فیل ہوئے ، نہ تجارتیں اور نہ زراعتیں ہاں اس دن خدا تعالیٰ کا عرش ہی ہلا اور اسے بے کلی ہوئی ، رنج پہنچا تو اللہ تعالیٰ کو ، تکلیف ہوئی تو حضرت عیسی علیہ السلام کو ، تکلیف دینے والوں کو کچھ بھی نہ ہوا۔وہ اپنی جگہ پر کہتے تھے کہ ہم نے اپنی حکومت کا زور دکھا دیا اور کون ہے جو ہمارے مقابلہ پر کھڑا ہو سکے؟ جو مقابلہ کر سکتا تھا وہ دیکھتا تھا اور کہتا تھا کہ ہم مقابلہ تو کر سکتے ہیں مگر چاہتے ہیں کہ تمہاری اصلاح ہو جائے ، ہم چاہتے ہیں کہ اہل روم ہدایت پا جائیں ، ہم چاہتے ہیں کہ یہود ہلاکت سے بچ جائیں کیونکہ ہم ان کے دشمن نہیں ہیں یہ اس کی قدوسیت کی علامت تھی جو دکھا وے اور بناوٹ کا شائبہ نہیں رکھتی۔تکلف والا ایک حد تک چلتا ہے اور