خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 754 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 754

خطبات محمود ۷۵۴ سال ۱۹۳۵ء وغیرہ اگلے روز نکلتا ہے اس لئے جن پر ۱۶ کی مہر ہوگی وہ وعدے بھی لے لئے جائیں گے لیکن اس کے بعد کا کوئی وعدہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ کوئی چندہ لیا جائے گا۔وصولی کی مدت وہی ایک سال ہوگی۔گزشتہ سال کے وعدے جو میں نومبر تک ادا کر دیتا ہے وہ اسے پورا کرنے والا ہے۔لیکن جو دیر کرتا ہے سوائے اس کے کہ وہ اجازت حاصل کر چکا ہو، اُس سے پھر چندہ نہیں مانگا جائے گا ہاں اگر اُس کے دل میں خود ہی ندامت محسوس ہو اور وہ آپ ہی آپ دے دے تو چونکہ تو بہ کا دروازہ بند نہیں اس لئے ہم اسے روک نہیں سکتے۔ہندوستان کے بعض حصے ایسے ہیں جہاں تحریک جلد نہیں پہنچ سکتی کیونکہ ان لوگوں کی زبان مختلف ہے۔مثلاً بنگال اور مدراس کے علاقے ہیں ان کے لئے میں تھیں مارچ کی تاریخ مقرر کرتا ہوں یعنی ۳۱ مارچ یا یکم اپریل کی مہر جن وعدوں پر ہوگی وہ لئے جائیں گے اس کے بعد کے نہیں۔غیر ممالک کی ہندوستانی جماعتوں کے لئے بھی یہی تاریخ ہے اس عرصہ میں ان تک یہ تحریک بخوبی پہنچ سکتی ہے ہاں غیر ہندوستانی، غیر ملکی جماعتوں کے لئے چونکہ نہ صرف فاصلہ کی بلکہ زبان کی بھی وقت ہے اس لئے اُن کے واسطے آخری تاریخ ۳۰ جون ہے۔جیسے انگلستان ، امریکہ ،سماٹرا وغیرہ میں جماعتیں ہیں۔اسی طرح چندہ کی وصولی کی مدت ۳۰ جون تک کی میعاد والوں کے لئے ۳۰ جنوری ۱۹۳۷ ء تک ہو گی۔۱۵ جنوری تک والوں کیلئے ۳۰ نومبر ۱۹۳۷ ء اور ۳۰ مارچ والوں کیلئے یکم اپریل ۱۹۳۷ ء تک مگر یا درکھو کہ نیکی جتنی جلدی کی جائے اتنا ہی ثواب زیادہ ہوتا ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ یہ خیال کر لیتے ہیں کہ آخر میں دیں گے ، بعض اوقات وہ دے ہی نہیں سکتے۔بعض نے مجھے خطوط لکھے ہیں کہ ہم نے خیال کیا تھا کہ بعد میں دے دیں گے مگر بد بختی سے ملازمت جاتی رہی یا آمد کے دوسرے ذرائع بند ہو گئے۔پس یہ مت خیال کرو کہ سال کے آخر تک دے دیں گے جو لوگ آخر وقت نماز ادا کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ بھول بھی جاتے ہیں پس پہلے دینے کا ثواب زیادہ ہوتا ہے۔جو شخص آج دیتا ہے وہ اگلے دسمبر میں دینے والے سے گیارہ ماہ قبل کا ثواب حاصل کرتا ہے۔ایک دن کا ثواب بھی معمولی چیز نہیں کہ اسے چھوڑا جا سکے۔جولوگ ایک دن کی ملازمت میں پہلے داخل ہوتے ہیں وہ ساری عمر سینئر رہتے ہیں۔اسی طرح یہ سمجھ لو کہ خدا کے انعام پہلے اُس پر ہوں گے جو پہلے شامل ہوتا ہے سوائے کسی ایسی مجبوری کے جو خدا کے ہاں بھی مجبوری ہولیکن وہ مجبوری نہیں جو انسان خود قرار دے لے۔