خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 753 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 753

خطبات محمود ۷۵۳ سال ۱۹۳۵ء غریب اور کمزور انسان ہوں مجھ میں ان کا بدلہ دینے کی طاقت نہیں اور ان کی قربانی دین کے لئے برکت کا موجب ہرگز نہیں ہو سکتی۔پس وہ شامل نہ ہوں تو اچھا ہے۔صرف وہی لوگ شامل ہوں جو خدا تعالیٰ کے لئے قربانی کرنا چاہتے ہیں اور جو تیار ہوں کہ اسے غیر محدود عرصہ تک جاری رکھیں گے میری وجہ سے کوئی اس میں حصہ نہ لے۔کیا پتہ کہ میں کل تک بھی زندہ رہ سکوں یا نہ۔بلکہ شام تک کا بھی علم نہیں۔میری وجہ سے شامل ہونے والوں کی قربانی دیر پا نہیں ہو سکتی۔قربانی اسی کی مفید ہوسکتی ہے جو اپنے آپ کو ابدی قربانی کے لئے پیش کرے۔قربانی کی تعیین اس کے ذہن میں بے شک نہ ہو اور یہ تو میرے ذہن میں بھی نہیں ممکن ہے کہ اگلے سال یہ قربانی نہ رہے یا مالی قربانی کی بجائے وطن یا رشتہ داروں یا جانوں کی قربانی کرنی پڑے۔کسی کو کیا علم ہے کہ کل کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کیا مطالبہ کیا جائے گا۔پس جو شخص ایسی مستقل اور بے شرط قربانی کے لئے تیار ہے اُسی کی شمولیت ہمارے لئے برکت کا موجب ہو سکتی ہے لیکن جو یہ خیال کرتا ہے کہ آج دے لوکل آرام کریں گے وہ خواہ دس لاکھ روپیہ بھی دے دے وہ ہمارے لئے برکت کا موجب نہیں ہوگا۔اس سال کی قربانی کے لئے میں پھر یہ شرط لگا تا ہوں کہ کسی کو مجبور کر کے وعدہ نہ لیا جائے اور وہی لیا جائے جو کوئی خود دیتا ہے۔اگر تم سمجھتے ہوا ایک شخص سو روپیہ دے سکتا ہے مگر وہ صرف پانچ دیتا ہے تو اُسے کچھ مت کہو۔یہ چندہ ماہوار چندوں کی طرح نہیں ہے کہ ہر شخص لازماً ایک آنہ فی روپیہ دے۔سوائے اس کے کہ جو نہ دینے کے لئے با قاعدہ اجازت حاصل کرے۔صرف آواز پہنچا دو پھر لاکھ دینے کی استطاعت رکھنے والا بھی اگر دس روپیہ دیتا ہے تو اُسے یہ نہ کہو کہ زیادہ دے۔تمہارا کام صرف یہ ہے کہ کوئی احمدی ایسا نہ رہے جس تک یہ آواز نہ پہنچ جائے۔عورت مرد بیکار، با کار، بوڑھا ، جوان ، بچہ ہر ایک تک یہ آواز پہنچاد ولیکن یہ مت کہو کہ ضرور دے اور پھر بار بار مانگ کر اسے شرمندہ مت کرو کیونکہ اس سے تم کام کی برکت کو کھو دیتے ہو۔یا د رکھو برکت اطاعت سے ہوتی ہے اور اس چندہ کے متعلق اطاعت یہی ہے پچھلے سال بھی میں نے یہی نصیحت کی تھی اور اب بھی کرتا ہوں کہ وعدہ لکھا کر بھی اگر کوئی سستی کرتا ہے تو اسے ایک دو بار یاد دہانی کرا دو لیکن پیچھے نہ پڑ جاؤ۔ہندوستان کی جماعتوں کے لئے اس چندہ کی آخری تاریخ میں ۱۵ جنوری مقرر کرتا ہوں لیکن چونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ۱۵ جنوری کو پوسٹ کیا ہوا خط